عمران خان کی خواہش ہو سکتی ہے پاکستان ڈیفالٹ کا شکار ہو، نہیں ہو گا، اسحاق ڈار

عمران خان کی خواہش ہو سکتی ہے پاکستان ڈیفالٹ کا شکار ہو، نہیں ہو گا، اسحاق ڈار

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ عمران خان کی خواہش ہو سکتی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کا شکارہو، نہیں ہو گا، تمام ادائیگیاں وقت پر ہوں گی۔

پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، تمام ادائیگیاں وقت پر ہوں گی، عمران خان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے خیال کرنا چاہیے، عمران خان ریاست پرسیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان الیکشن کا انتظار کریں، آئین میں لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے؟ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم نے اسٹیٹ بینک کو کہہ دیا ہے بانڈز کی ادائیگی وقت پر ہو جائے گی،
دوست ملک سے دو ہفتے میں 3 ارب ڈالرز مل جائیں گے، ہمیں 22 ارب میں سے 7،8 ارب ڈالرز کا انتظام کرنا ہے جو ہم کر رہے ہیں۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مفتاح اسماعیل سے پوچھیں کہ وہ 6 ماہ میں کتنے پیسوں کا انتظام کر کے گئے ہیں؟ باتیں کرنا آسان ہوتا ہے، ہم آئی ایم ایف کی منتیں نہیں کریں گے، اگر آئی ایم ایف نہیں آتا تو ہم مینج کریں گے۔

ملک تقریباً ڈیفالٹ ہوچکا ہے صرف اعلان ہونا باقی ہے، شیخ رشید

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب میں نے وزارت سنبھالی تو معاشی صورتحال بہت خراب تھی، میں ملک کی خاطر ابھی بھی آئی ایم ایف سے ڈیل کررہا ہوں، مجھے پتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو کیسے مکمل کیا جاتا ہے؟ آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کریں گے، ہم عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے ہیں، آئی ایم ایف کو کہہ چکا ہوں کہ آپ کا برتاؤ ٹھیک نہیں ۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، تحریک انصاف نے کورونا کو بہانا بنایا یہ ان کی نااہلی تھی، ڈالر کی اسمگلنگ روکنے کیلئے متعلقہ لوگوں سے بات ہو چکی ہے، کرنسی کی اسمگلنگ کو روکنا بہت ضروری ہے۔

کھل کر رائے دیں، جھجھک کا شکار نہ ہوں، عمران خان: اراکین کا اسمبلیاں تحلیل کرنے پر تحفظات کا اظہار

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ صدر عارف علوی سے کہا تھا کہ عام انتخابات کی شرط پہلے نہیں رکھی جا سکتی، الیکشن کی تاریخ کا اعلان اتحادی حکومت نے کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں