اگلے 48 گھنٹوں میں بجلی کی کمی رہے گی، خرم دستگیر

وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹے میں جوہری اور کول پاورپلانٹس کی بندش کے باعث ملک میں بجلی کی کمی رہےگی۔پرسوں تک مکمل بجلی بحال ہوجائے گی۔

وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ بریک ڈاون کی وجہ سے ہمیں تکنیکی فالٹ کا سامنا رہا۔ہم ابھی بھی تکنیکی فالٹ کو درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پورے ملک میں بجلی بحال کردی ہے۔چیئرمین واپڈا نے بجلی بحالی میں ہماری معاونت کی ۔

ان کا کہنا ہے کہ وارسک پاوراسٹیشن سے بجلی کی ترسیل میں ہمیں ریلیف ملا۔اب ملک بھرمیں ایک ہزار 112گرڈ اسٹیشنز بحال ہیں۔گیپگو کے 60گرڈ اسٹیشنز بحال کردیئے ہیں۔سیلا ب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی گزشتہ روز بحال کردی تھی۔

انہوں نے  کہاہےکہ حیسکوکے تمام 71گرڈ اسٹیشنز بحال کردیئے ہیں۔تربیلا اور منگلا کےدرمیان کچھ تکنیکی مسائل پیش آئے ہیں۔نیشنل گرڈ کے تمام اسٹیشنز بحال کرچکے ہیں۔ترسیل کار کمپنیوں تک بجلی پہنچادی گئی ہے ۔کراچی پاور پلانٹ میں تفتیش کی تو معلوم ہواکہ پرانے کنڈ کٹرز لگائے گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ بریک ڈاون کے واقعات ہوئے ہیں ہمیں ہیکنگ کے معاملے کودیکھنا ہوگا۔سسٹم میں ہیکنگ کے ذریعے بیرونی مداخلت کے امکانات کم ہیں۔تحقیقات کریں گے کہ سسٹم میں ہیکنگ کےذریعے بیرونی مداخلت تونہیں۔گزشتہ حکومت نے سسٹم میں نئی سرمایہ کاری نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:وزارت توانائی کا ملک بھرمیں بجلی بحال کرنے کا دعویٰ

انہوں نے کہا ہے کہ جوہری اور کول پاورپلانٹس کی بندش کے باعث ملک میں بجلی کی کمی رہےگی۔کوئلے کے پلانٹ کو 48گھنٹے چلانے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ملک کا ترسیلی نظام محفوظ رہا ہے۔سندھ میں کچھ پاور اسٹیشنز چل رہےہیں۔بجلی کے کارخانوں کو چلانے کے لیے وافر ایندھن موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 48گھنٹے میں ملک میں محدود پیمانے پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوگی ،کراچی میں بھی بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔پرسوں تک مکمل بجلی کی ترسیل کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ جنوری میں بجلی کی کم طلب ہوتی ہے۔دن میں ساڑھے 11سے 12ہزار بجلی کی طلب ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے بریک ڈاو ن کی انکوائری کےلیے 3رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔بریک ڈاون انکوائری کمیٹی کی سربراہی مصدق ملک کریں گے۔بریک ڈاو ن کی انکوائری کمیٹی براہ راست معاونت فراہم کرے گی۔ انکوائری کمیٹی بجلی بریک ڈاون پر وزیراعظم کو رپورٹ دے گی۔

 

متعلقہ خبریں