فواد چوہدری کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

مقدمہ بنتا ہی نہیں، مجھے بھگت سنگھ اور نیلسن مینڈیلا کی صف میں شامل کردیا گیا، فواد چدھری

اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 27 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ، فواد چودھری کی بازیابی کی درخواست خارج

اسلام آباد میں کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے فواد چودھری کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے جب کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کروانے کے تمام اختیارات ہیں۔

انہوں نے عدالت میں دوران مؤقف اختیار کیا کہ فواد چودھری کی تقریر کرنے کا مقصد سب کو اکسانا تھا، فواد چودھری ںے کہا کہ الیکشن کمیشن کے گھروں تک پہنچیں گے، بغاوت کی دفعہ بھی مقدمہ میں لگا دی گئی ہے۔

دوران سماعت سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ میرے خلاف تو مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، اس ایف آئی آرکو درست قرار دیا جائے تو ملک میں جمہوریت کو ختم کردیں گے۔

آئینی ادارے کی درخواست پر فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کیا، اسلام آباد پولیس

انہوں نے کہا کہ مجھے اسلام آباد پولیس نے گرفتار ہی نہیں کیا، صبح لاہور پولیس نے گرفتار کیا اور میرا موبائل قبضے میں لیا، عدالت پولیس سے میری گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیجز طلب کرے، اسلام آباد پولیس تو راہداری ریمانڈ سے پہلے نظر ہی نہیں آئی۔

فواد چودھری نے مؤقف اپنایا کہ میں سابق وفاقی وزیر، پارلیمنٹیرین اور سپریم کورٹ کا سینئر وکیل ہوں، میں آپ کے شعبے سے متعلقہ ہوں اور میرے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھا جانا چاہیے، میری گرفتاری غیرقانونی ہے،  بد قسمتی ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ یہ عمران خان کو اکیلا کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما بولتا ہے تو اسے گرفتار کرلیتے ہیں، پہلے شہباز گل پھر اعظم سواتی اوراب مجھے گرفتار کرلیا۔

کیس کی سماعت کے دوران فواد چودھری کے وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ اللہ کے بعد آپ انصاف کرنے والے ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اتنے قابل انسان کو ہتھکڑی میں نہیں دیکھا، پولیس ریمانڈ مانگ رہی ہے، میں تو کہتا ہوں فواد چودھری کو ڈ سچارج کریں، پولیس نے فواد چودھری کی گرفتاری کے 24 گھنٹوں میں کیا ہی کیا ہے؟

فواد چودھری تحریک انصاف کے ہراول دستے کے کارکن ہیں، عمران خان

عدالت میں وکیل علی بخاری نے دوران سماعت کہا کہ فواد چودھری نے صرف ایک تقریر کی، اس میں کیا برآمد کرنا ہے؟ فواد چودھری کو لاہور سے بھوکا پیاسا لا کر اس عدالت کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں