وائٹ ہاؤس کا نیا مکین بھارتی نژاد ہو گا؟

وائٹ ہاؤس کا نیا مکین بھارتی نژاد ہو گا؟

واشنگٹن: جنوبی کیرولانا کی سابق گورنر اور اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر نکی ہیلی امریکی صدارتی امیدوار بننے کی خواہاں ہیں جس کے بعد وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ری پبلکن حریف بن سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی مستعفی

امریکی میڈیا کے مطابق بھارتی نژاد نکی ہیلی 15 فروری کو چارلسٹن میں باضابطہ طور پر اپنی امیدواری کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ دیگر امیدواران کی جانب سے ممکنہ انتخابی مہم سست روی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

اس ضمن میں بعض امریکی ذرائع ابلاغ کا تجزیہ ہے کہ دیگر امیدواران کی جانب سے فی الوقت انتخابی مہم محتاط طرز عمل اپنانے کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کیونکہ اکثر امیدواران کے  مشیران کی رائے ہے کہ وہ ابتدا ہی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہدف تنقید بننے سے اجتناب برتیں تو یہ ان کے لیے سیاسی طور پر بہتر ہو گا۔

51 سالہ نکی ہیلی نے اقوام متحدہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے سے قبل چھ سال تک جنوبی کیرولائنا کی گورنر کے طور پر خدمات سر انجام دی تھیں۔

اس لحاظ سے آنے والے وقت میں یہ مقابلہ دلچسپ ہو سکتا ہے کہ نکی ہیلی براہ راست اپنے سابقہ باس ٹرمپ کی پہلی سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئیں گی جو ابھی تک اپنی پارٹی کی 2024 کی نامزدگی کے خواہاں واحد ریپبلکن امیدوار ہیں۔

امریکی سفیر نکی ہیلی کی یونیورسٹی آمد:طلبہ کی شدید نعرے بازی

حیرت انگیز بات ہے کہ سابق صدر ٹرمپ جب گزشتہ ہفتے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے لیے جنوبی کیرولائنا میں تھے تو ان کے ساتھ  ہنری میک ماسٹر نمایاں نظر آئے جنہوں نے نکی ہیلی کے ساتھ بطور لیفٹیننٹ گورنر خدمات سر انجام دی تھیں۔

نکی ہیلی ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں وائٹ ہاؤس میں اپنے بعض جھگڑوں کی وجہ سے بھی عوامی بحث کا موضوع بنی تھیں اور جب وہ 2018 میں رخصت ہوئی تھیں تو غالب امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ 2020 میں ٹرمپ کو چیلنج کریں گی لیکن اس کے بجائے وہ جنوبی کیرولائنا گئیں جہاں انہوں نے ایک جزیرے پر گھر خریدا، ہوائی جہاز بنانے والی بوئنگ کمپنی کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی اور خود کو اسپیکنگ سرکٹ پر لانچ کیا۔

عام خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی فیس دو لاکھ ڈالرز تھی، انہوں نے اس دوران دو کتب تصنیف کیں، کیپیٹل محاصرے کے بعد ٹرمپ کے سیاسی مستقبل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کہا کہ وہ 2024 میں انہیں چیلنج نہیں کریں گی، 2021 میں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر ٹرمپ بھاگے تو بھی وہ نہیں بھاگیں گی لیکن اب انہوں نے اپنا سیاسی راستہ بدل لیا ہے اور اپنی سیاسی سرگرمیاں اسٹینڈ فار امریکہ غیر منافع بخش اور سیاسی ایکشن کمیٹی کے ذریعے تیز کردی ہیں۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ پر ٹیکس فراڈ کے الزامات ثابت

نکی ہیلی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں حصہ لینے کے ارادے کے بعد سیاسی مبصرین یہ استفسار کر رہے ہیں کہ کیا برطانیہ کے بعد امریکی صدر بھی بھارتی نژاد ہو گا۔ واضح رہے کہ موجودہ برطانوی وزیراعظم رشی سونک بھارتی نژاد ہیں۔

متعلقہ خبریں