سندھ کے ساتھ بلاول بھٹو کو بھی آزاد کرانے کی ضرورت ہے، فہمیدہ مرزا

اسلام آباد: ڈیموکریٹک گرینڈ الائنس کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ  سندھ کے ساتھ  ساتھ بلاول بھٹو کو بھی آزاد کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام “نیوز لائن” میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائینس میں شمولیت کے فیصلے پر میزبان ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ آج جب ہم الیکشنز کی طرف جا رہے ہیں تو میں نے خود پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم کو ٹھکرایا کیونکہ اب پارٹی کا منشور بالکل بدل چکا ہے۔

فہمیدہ مرزا نے بتایا کہ جب حکومت ملتی ہے تب ہی منشور پر عمل درامد کیا جا سکتا ہے اور عوام سے کیے گئے وعدے بھی تب ہی پورے کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں تو ہم بہت جوش اور جذبے سے کام  کر رہے تھے لیکن آخری پانچ سال جو گزرے وہ میرے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہیں۔

ہماری پارٹی کا نام پیپلز پارٹی اس لیے رکھا گیا کیونکہ عوام کی بات تھی لیکن آج صرف ایک پارٹی رہ  گئی ہے، اس میں عوام کے لیے کوئی بھلائی ہے نہ کوئی شنوائی، بی بی کے وقت کا جو منشور تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ  کوچلانے والا ایک مافیا ہے جس میں غیر منتخب لوگ شامل ہیں، پولیس کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے لے کر آئی جی کو ہٹانے کی بات تک ہر چھوٹی بڑی چیز میں غیر منتخب لوگوں کا مافیا ہے جو فیصلے کر رہا ہے۔

انور مجید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انور مجید جیسے لوگ اس پارٹی کو چلا رہے ہیں، ان لوگوں نے سندھ کو بیمار کر کے رکھ  دیا اور صرف اپنے آپ کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خود یہ لوگ کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور عوام کا حال دیکھ لیں کیسا ہے۔

بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ جو میں کر رہی تھی وہ میں نے اپنی لیڈر سے سیکھا کہ کیسے سسٹم میں رہ کہ آپ چیزیں صحیح کر سکتے ہیں۔

میرے پاس پارلیمنٹ تھی اور میں نے اسے استعمال میں لاتے ہوئے اپنی آواز اٹھائی۔

میزبان ماریہ ذوالفقار کے ایک سوال کے جواب میں فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں میری ذمہ داری ہر چیز کو دیکھنے کی تھی، میں کیسے اپنی ذمہ داری چھوڑدیتی؟ کیا ہوتا اگر میں دوبارہ منتخب ہو جاتی؟ تب بھی میری آواز کون سنتا؟ میرا مقصد پارلیمنٹ میں ایک سیٹ لے کر بیٹھنا نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ عوام نے مجھ  پرجو اعتماد کیا میں نے اس کے لیے اپنی مدت پوری کی اور اس اعتماد کو قائم رکھا، نہ میں اقتدار میں تھی، نہ ہی میں نے اقتدار کے مزے اڑائے، میں صرف حقوق کی بات کر رہی تھی اور وہ کردار ادا کر رہی تھی جو مجھے آئین نے دیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز