پاکستان فیشن انڈسٹری کے معروف برانڈز کے پس پردہ کون؟

پاکستان فیشن انڈسٹری کے معروف برانڈز کے پس پردہ کون؟ | humnews.pk

اسلام آباد: پاکستانی مرد و خواتین فیشن کے نت نئے انداز سے واقف رہتے ہیں لیکن موقع آنے پر اپنے پسندیدہ  برانڈز کے ملبوسات ہی پہننا پسند کرتے ہیں۔

پاکستان کی فیشن انڈسٹری دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں یہی وجہ ہے کہ مرد و خواتین کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف برانڈز کی جانب سے نت نئے ڈیزائن متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ذیل میں ہم نے جائزہ لیا ہے کہ پاکستان فیشن انڈسٹری کے معروف برانڈز کے پس پردہ کون سی شخصیات ہیں۔

گل احمد:

1953 میں قائم ہونے والا گل احمد گروپ پاکستان کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ گل احمد کے ڈیزائن کردہ لباس کی مارکیٹ میں ایک منفرد پہچان ہے۔ گل احمد گروپ کے بانی حاجی علی محمد تھے۔ حاجی علی محمد نے 1950 میں پاکستان کا پہلا سافٹ ڈرنک ’پاکولا‘ بھی متعارف کرایا تھا۔

حاجی علی محمد کے بیٹے بشیرعلی محمد گل احمد گروپ کے حالیہ چیئرمین ہیں۔ وہ ’نشاط گروپ‘ کے بھی مالک ہیں۔

ستارہ امتیاز بشیرعلی محمد پاکستان بزنس کونسل کے سربراہ ہیں۔ وہ انٹرنیشنل ٹیکسٹائل مینوفیکچررز فیڈریشن کے صدر رہنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔

گل احمد گروپ میں گل احمد ٹیکسٹائل مل، گل احمد انرجی، سوئس ٹیکس کیمیکل، ارون ٹیکنالوجی اور حبیب میٹروپولیٹین بینک شامل ہیں۔

2017 کے اعدادوشمار کے مطابق کمپنی کے کل مالیت 12 ارب 70 کروڑ ہے۔ جس سے یہ پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل کمپنی کے طور پر ابھر کے سامنے آئی ہے۔

جنریشن: 

جنریشن پاکستان میں نسل در نسل چلنے والا ایک برانڈ ہے جس کی بنیاد 1983 میں نوشین خان اور سعد رحمان نے رکھی۔ دونوں میاں بیوی نے لاہور اور اسلام آباد میں ایک بوتیک کھول کر اس بزنس کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت ان کی بیٹی خدیجہ رحمان جنریشن کی ڈائریکڑ ہیں۔

خدیجہ رحمان نے لندن سے فیشن ڈیزائنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر بھی کیا ہوا ہے۔

بریزے:

بریزے فیشن کی دنیا میں ایک ایسا نام ہے جسے نہ صرف خواتین شادی بیاہ اور پارٹیوں کے علاوہ روزمرہ زندگی میں بھی پہننا پسند کرتی ہیں۔

بریزے اور کئیر فاؤنڈیشن سیفام گروپ کا حصہ ہیں جس کی بنیاد رکھنے والی شخصیت سیما عزیز ہیں۔ 1985 میں انہوں نے بریزے کی پہلی دکان شادمان مارکیٹ لاہور میں کھولی تھی۔

شینیئر، کیسریا، دی لیاژر کلب، منی مائنرز سمیت جنریشن کے لگ بھگ 14 مزید برانڈز ہیں۔ منی مائنرز پاکستان میں بچوں کے ملبوسات کا سب سے بڑا برانڈ ہے۔

سیما عزیز کا کئیر فاونڈیشن 1988 سے پاکستان میں 234 اسکول چلا رہا ہے جس کے تحت تقریباً 16 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔

الکرم اسٹوڈیو: 

پاکستان کا سب سے پرانا برانڈ الکرم خواتین میں انتہائی مقبول ہے۔ الکرم ٹیکسٹائل مل نامی یہ کمپنی ایک طویل عرصے سے مارکیٹ میں موجود ہے۔

الکرم گروپ کی بنیاد 1986 میں رکھی گئی۔ جس میں الکرم ٹیکسٹائل مل، آمنہ انڈسٹریز، پاکستان سینتھیٹکس، پی ایس ایل کیپس، دابھے جی سالٹ، ستارہ لمیٹڈ شامل ہیں۔

الکرم گروپ کے معروف برانڈز میں الکرم اسٹوڈیو، باڈی شاپ، لائف اسٹائل، سپلیش اور مینگو بین الاقوامی سطح پر بھی کام کر رہے ہیں۔

معروف برانڈ الکرم گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں عمر حاجی کریم، انور حاجی کریم، یعقوب حاجی کریم، ساجد حاجی کریم، افضل عمر، فواد انور اور عابد عمر شامل ہیں۔

ماریہ بی:

ماریہ بی کا نام فیشن انڈسٹری میں جتنا مقبول ہے اس سے کہیں زیادہ عوام میں ان کے ملبوسات مشہور ہیں۔ ماریہ بٹ (ماریہ بی) نے اپنے اس برانڈ کی بنیاد 1999 میں رکھی تھی۔

ماریہ بٹ نے 1999 میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ سے گریجویشن کرنے کے بعد لاہور میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔

2016 میں ماریہ بی پاکستان کا وہ پہلا برانڈ بن گیا جس نے آسٹرین فیشن اور جیولری کے برانڈ سوروفسکی کے ساتھ اشتراک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کھاڈی:

فیشن ریٹیل برانڈ میں پاکستان کے سرفہرست برانڈ کھاڈی کی بنیاد 1999 میں رکھی گئی۔ کھاڈی کا پہلا اسٹور کراچی میں کھولا گیا۔ تین بار لکس اسٹائل ایوارڈ جیتنے والے کھاڈی کے بانی شامون سلطان ہیں۔ شامون کی اہلیہ سائرہ خود بھی ایک فیشن ڈیزائنر ہیں۔

شامون سلطان نے فیشن ڈیزائنگ کا کام نورجہاں بلگرامی سے سیکھا تھا۔ نورجہاں ایک بڑی آرٹسٹ، ڈیزائنر اور محقق ہیں۔

عاصم جوفا: 

عاصم جوفا برانڈ اپنے شاندار ڈیزائنز اور بہترین فیشن کے لیے جانا جاتا ہے۔ 12 سال پہلے عاصم جوفا نامی نوجوان نے اپنے نام سے اس برانڈ کو مارکیٹ میں متعارف کرایا۔

عاصم جوفا کے ملبوسات کو نہ صرف پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں سراہا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی یہ کافی مقبول ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز