نوازشریف سابق وزیراعظم تو زرداری سابق صدر پاکستان ہیں،اعتزاز احسن

’مولانا کا منصوبہ نظام لپیٹ سکتا ہے‘

فائل فوٹو

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ ہم ایسی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں جس کی بنیاد پر آصف علی زرادری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس رپورٹ پر نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے اس کے مصنف ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے خلاف ہم پہلے ہی الیکشن کمیشن کو لکھ چکے ہیں۔

اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد  ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے بات چیت کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ بشیر میمن کے بھائی مٹیاری سے الیکش لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ان کے ایک عزیز مخدوم امین فہیم  (مرحوم) کے خلاف پہلے بھی الیکشن لڑتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاثر دیا گیا ہے کہ 35 ارب کی منی لانڈرنگ کا معاملہ  ہے لیکن ایف آئی اے نے جو نوٹس بلاول ہاؤس پر چسپاں کیا وہ محض ڈیڑھ کروڑ کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ  ڈیڑھ کروڑ کے چیک کو متنازعہ بنایا گیا ہے اور ادارے غلط تاثر دے رہے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ بیرسٹر اعتزازاحسن نے کہا کہ ہم اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گے لیکن یہ معاملہ ایف آئی کے مطابق صرف ڈیڑھ کروڑ کا ہے۔

ججز بحالی تحریک کے مرکزی رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک اس پر مؤقف سامنے لائیں گے لیکن یہ  معاملہ 34 ارب والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا خبر پڑھ کر دکھ ہوا کہ آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا جبکہ وہ  ملزم بھی نہیں ہیں۔

’دھرتی ہوگی ماں کے جیسی‘ شہرہ آفاق نظم کے خالق بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نواز شریف پر تین اپریل 2016 سے پاناما آیا، مقدما بنا، انکوائری ہوئی، ناہل ہوئے، ان کا ٹرائل ہوا اور وہ مفرور بیٹوں کے ساتھ رہائش پذیر رہے لیکن سزا ملنے تک نواز شریف کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اعتزازاحسن نے کہا کہ  نواز شریف آزادی سے پھرتے رہے اور جب باہر تھے تب ان کا نام  ای سی ایل پرڈالا گیا۔

ممتاز قانون دان نے یاد دلایا کہ اگر نواز شریف سابق وزیراعظم ہیں تو آصف علی زرداری صاحب تو سابق صدرپاکستان  ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز