حکومت سازی اور اپوزیشن ، پروگرام بڑی بات میں گفتگو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وفاق میں نون لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی نے مل کر اپوزیشن کا فیصلہ کیا ہے تاہم اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی کے چھ ارکان کی مدد سے حکومت سازی ممکن ہوئی تو اس بات کا امکان ہے کہ پیپلز پارٹی ضرور تعاون کرے گی۔

ہم نیوز کے پروگرام  ’بڑی بات‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے مرکز میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل  کر اصولی اپوزیشن قائم کی ہے، ہم پی ٹی آئی کے دھرنے جیسی سیاست نہیں کریں گے اور جمہوری انداز میں اپوزیشن کریں گے۔

پروگرام کے میزبان عادل شاہ زیب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مرکز میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اصولی اپوزیشن قائم  کی  ہے، ہم دھرنوں کے بجائے جمہوری انداز میں اپوزیشن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان کچھ  نہیں کر سکیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے صوبے میں پانچ سالوں کے دوران کچھ نہیں کیا، ہمارے دور حکومت میں شروع  کیے گئے منصوبے شاید مکمل  ہو جائیں لیکن ان کی لاگت چار گنا بڑھ  جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ متنازع الیکشن ہے، اب ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ملک کو اس صورتحال سے نکالیں، پاکستان غیرمعمولی صورتحال سے گزر رہا ہے، ہم اس میں انتشار نہیں دیکھنا چاہتے، یہ ملک ہماری ہار جیت جیسے معاملات سے بہت بالاتر ہے، ہم پاکستان کو جمہوریت کی جانب لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کا ظرف ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ  دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ ملک کو انتشار میں نہیں ڈال سکتے۔

احسن اقبال نے کہا کہ انتخابات میں بڑے بڑے مضبوط امیدواروں کا عوام نے بھرکس نکال دیا ہے، یہ مثبت تبدیلی ہے، انہیں علم ہے کہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوگوں کو ووٹ نہیں دینا۔

پروگرام میں بات کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میری نظر میں تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج حکومت سازی نہیں بلکہ  اپوزیشن جماعتیں ہیں، کچھ علم نہیں کہ نون لیگ پانچ سال بطور اپوزیشن ثابت قدم رہے گی یا نہیں، نون لیگ کو پہلی مرتبہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ  رہی ہے کہ ہمارے منشور کو نہ میڈیا نے دیکھنے کی زحمت کی اور نہ ہی تجزیہ کاروں نے دیکھا جبکہ باقی پارٹیوں کے منشور کو لہرا لہرا کر دکھایا جاتا  رہا۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وفاق نے کبھی ہمارے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھا، آج کے اجلاس میں عمران خان نے خوبصورت بیان دیا اور کہا کہ میں بلوچستان کو 13 ایم این ایز کے تناظر میں نہیں دیکھوں گا، بلوچستان آدھا پاکستان ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب سے دو گھنٹے پہلے ایک اور ایم پی اے نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی میں سیٹوں کی تعداد 182 ہو گئی ہے، پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان مفروضوں پر نہیں حقائق پر فیصلہ کریں گے، پارٹی کو عمران خان پر اعتماد ہے، وہ جو فیصلہ کریں گے سب کو قبول ہو گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پارٹی نے کئی ناموں پر مشاورت کی ہے، میں پارٹی ترجمان ہوں میری طرف سے مفروضوں پر رائے زنی مناسب نہیں ہو گی، ایک دو دن میں حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ پنجاب میں کیا ہو رہا ہے لیکن بلاول بھٹو نے کہہ دیا ہے کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے، فی الحال پنجاب میں تحریک انصاف اکثریت میں ہے لیکن اگر گرینڈ اپوزیشن الائنس مل کر اکثریت حاصل کر لے تو ہم ان کے ساتھ کام  کر سکتے ہیں، ابھی تک ہماری پالیسی اپوزیشن کی ہی ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ نون لیگ کے ساتھ حکومت میں جانا ہمارے لیے کوئی اچھا فیصلہ ثابت نہیں ہوگا، ہم ان کے ساتھ حکومت میں جائیں گے یا نہیں، میرے لیے کچھ کہنا مشکل ہے، ہم فرینڈلی اپوزیشن نہیں کرتے، صرف ذمہ دارانہ اپوزیشن کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے، فرق یہ آئے گا کہ بلاول بھٹو تھوڑے مختلف انداز میں اپوزیشن کریں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز