ایم کیو ایم کا تحریک انصاف کی مشروط حمایت کا فیصلہ

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)  پاکستان  نے پاکستان تحریک انصاف کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام  ’بڑی بات‘  میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا مائنڈ سیٹ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو بتا دیا ہے، ہم نے ان کی حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اعظم کے امیدوار کو ووٹ دینے کی بات کی ہے۔

پروگرام کے میزبان عادل  شاہ زیب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے لیے کچھ  شرائط رکھی ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف حکومت میں آنے کے بعد  واضح طور پر بتائے کہ وہ ان حلقوں کو کھولے گی جہاں دھاندلی ہوئی ہے اور اس معاملے میں جو کچھ  ہو سکتا ہے  وہ کیا جائے گا۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بھی 2013 کے نتائج ماننے سے انکاری تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے خیبرپختونخوا میں حکومت کی اور جماعت اسلامی سے اتحاد بھی کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ  ہم  ان حلقوں کو بھول جائیں گے جہاں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این اے 239  ملیر شاہ فیصل کراچی میں ایک پولنگ اسٹیشن پر فارم  45 دو روز بعد دیا گیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کو 330 ووٹ ملے ہیں، بعد میں آنے والے نتائج میں وہاں صرف 30 ووٹ بتائے گئے، اس معاملے کو لے کر ہم کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل ہماری تحریک انصاف کے رہنماؤں سے باضابطہ  ملاقات ہو گی جس میں ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت اس  بات کو یقینی بنائے کہ ان حلقوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب جہانگیر ترین کی قیادت میں وفد آیا تو میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ ہم مرکز میں موجود تحریک انصاف  کے رہنماؤں کے حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ  کر رہے ہیں، جس پر جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم  کچھ  نہیں چھپائیں گے بلکہ  ہم تعاون کے لیے تیارہیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ حلقے دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایک طرف ہے، پچھلے دس برسوں میں کراچی حیدرآباد سمیت میرپور خاص، سکھر اور نواب شاہ کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں، کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا، ہم ان علاقوں کے لیے پیکج کے ساتھ ساتھ  مردم شماری کے نتائج کی درستی کا مطالبہ بھی کریں گے۔

نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون کا ’بڑی بات‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکہ ہمیں سانس تک نہیں لینے دے رہا، کئی سالوں سے یہ سلسلہ  جاری  ہے، 7.9  بلین ڈالر بھارت کو انڈو پاک سیکیورٹی کے لیے دیا گیا، ہمیں یہ کیوں نہیں دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ہر حکومت میں مسئلے مسائل ہوتے ہیںِ، بہتر ہے کہ سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا جائے،  اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ میری گفتگو میں انہوں نے یہ چاہا کہ میں پنجاب میں رہوں، بہت سے معالات عمران خان نے طے کر لیے ہیں، جیسے اسد عمر کو وزیر خزانہ بنائے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، بہت جلدی اعلان کر دیا جائے گا اور پنجاب میں بھی حکومت ہماری ہی ہوگی۔

تجزیہ کار معید یوسف کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ سے کچھ سوچ کر امریکہ کے بیان پر ردعمل دیا  ہے، پاکستان اب امریکہ کے ریڈار پر اس طرح  نہیں ہے جس طرح کچھ عرصہ پہلے تھا، مجھے نہیں لگتا کہ آج  یا آنے والے کچھ دنوں میں امریکہ پاکستان کو کوئی جواب دے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز