خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کو حکومت سازی میں مشکلات

پشاور: خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)  کو حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا  ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے دو سینیئر رہنما، سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور سابق صوبائی  وزیرعاطف خان  وزیراعلیٰ کے منصب کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے معاملہ التوا کا شکار ہوتا جا رہا ہے، مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی میں مصروف پی ٹی ائی کے لیے اس صوبے کی وزارت اعلیٰ ایک چیلنج بن گئی  ہے جہاں اس نے دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ  پرویز خٹک اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان نے پارٹی کے اندر اپنے الگ گروپ بنا رکھے ہیں،  ان  کے درمیان رسہ  کشی پارٹی قیادت کے لیے پریشانی کا سبب بن گئی ہے اس لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے  وزارت اعلیٰ کے لیے متبادل ناموں پر غور شروع  کر دیا ہے۔

مرکز میں حکومت سازی کے لیے مطلوب تعداد  کے حصول کی خاطر پرویزخٹک، اسد قیصر اور ڈاکٹر حیدر علی کو قومی نشستیں برقرار کی ہدایت کی گئی ہے جس کے بعد تینوں ارکان  وزیراعلیٰ  کے منصب کی دوڑ سے عملاً  باہر ہوگئے ہیں تاہم وہ اب بھی ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت عاطف خان کے علاوہ سوات سے تعلق رکھنے والے نو منتخب رکن اسمبلی محمود خان اور پشاور کے تیمور سلیم کے نام سامنے آ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بنی گالہ سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نامزدگی کا اعلان بہت جلد ہونا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود اس منصب پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، پی ٹی ائی ذرائع کے مطابق عمران خان وزیراعلیٰ کے منصب پر نامزدگی خود کریں گے اور اس معاملے میں کوئی سرپرائز بھی دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں