جناح کیپ: مقبولیت میں کمی کے باوجود اہمیت کم نہیں ہوئی

August 8, 2018
جناح کیپ کی مقبولیت میں کمی|humnews.pk

پشاور: قائداعظم کی شخصیت کی سحرانگیزی میں ان کے  نفیس لباس کے ساتھ ان کی  قراقلی ٹوپی کا کردار بھی بے حد اہم تھا جو ’جناح کیپ‘  کے نام سے ہی مشہور ہو گئی، وقت گزرنے کے ساتھ  ساتھ جناح کیپ میں بھی جدت تو آئی لیکن اس کی مقبولیت بھی متاثرہوئی۔

شیروانی، سفید پاجامہ اور سر پر قراقلی ٹوپی ہمیشہ بابائے قوم کا لباس رہا جس نے ان کی شخصیت کو مزید جاذب نظر بنا دیا، عوام میں ان کے اس لباس نے بے حد مقبولیت حاصل کی لیکن سب سے زیادہ اہمیت جناح کیپ کو ملی جسے ہر کم و بیش ہر بزرگ اور محب وطن پاکستانی نے اپنے پہناوے کا حصہ بنایا۔

زمانے کے بدلتے اطوار جب ملبوسات  پر اثر انداز ہوئے تو قائد کے نام سے منسوب جناح کیپ کی مقبولیت بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی۔

پشاور کا قصہ خوانی بازارکسی زمانے میں جناح کیپ کا مرکزہوا کرتا تھا لیکن اب صرف شاہ محمد یہاں کا واحد کاریگرہے جو اس کاروبار سے وابستہ ہے۔

’ہم نیوز‘  سے بات کرتے ہوئے شاہ محمد نے بتایا کہ اس روایتی اور تاریخی ٹوپی بنانے کا طریقہ کچھ آسان نہیں، صرف ایک ٹوپی کئی دن کی محنت سے تیار ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت بھی معمولی نہیں، اس لیے یہ ٹوپی عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہے۔

شاہ محمد نے بتایا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے اس کام سے وابستہ ہے لیکن اب جناح کیپ کی طلب اور مقبولیت میں بہت کمی آ چکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ نوجوان نسل کی اس میں عدم دلچسپی ہے تاہم عمر رسیدہ افراد اب بھی اسے خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

وقت نے ثابت کیا ہے کہ جناح کیپ کی مقبولیت میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اس محمد علی جناح کی نشانی ہے جس نے قائداعظم بن کر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں ایک الگ وطن کا تحفہ دیا تھا۔

اب جب قوم پاکستان کا 72 واں یوم ولادت اور 71 واں جشن آزادی منانے جا رہی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم  قوم کے عظیم محسن کی نشانی کو وہی اہمیت دیں جس کی یہ متقاضی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز