پارلیمنٹ لاجز آپریشن کر کےخالی کرایا گیا

اسلام آباد: نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کو رہائش گاہیں فراہم کرنے کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے  پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کرکے 39 سرکاری رہائش گاہیں خالی کرائیں۔ آپریشن میں سی ڈی حکام کی معاونت مجسٹریٹ اور وفاقی پولیس سمیت پارلیمنٹ لاجز کے ملازمین نے بھی کی۔

ہم نیوز کے مطابق 25 جولائی 2018 کومنعقد ہونے والے عام انتخابات میں شکست کھا جانے والے اراکین پارلیمنٹ سے رہائش گاہیں خالی کرانے کے لیے متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود سرکاری رہائش گاہیں خالی نہیں ہوئیں توسی ڈی اے کو آپریشن کرنا پڑا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ سی ڈی اے نے آپریشن کرکے 53 میں سے 39 رہائش گاہیں خالی کرالی ہیں جب کہ 12 سابق اراکین اسمبلی نے رضاکارانہ طورپر اپنی سرکاری رہائش گاہیں خالی کردیں۔

ہم نیوز کے مطابق دو سابق اراکین پارلیمنٹ ایسے ہیں جنہوں نے نئے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی سے رہائش گاہ خالی کرنے کے لیے مزید دو دن کی مہلت مانگ لی ہے اور چونکہ انہوں نے مہلت دے دی ہے اس لیے حکام نے ان رہائش گاہوں پر آپریشن نہیں کیا۔

پارلیمنٹ لاجز میں رہائش گاہیں خالی کرانے کے لیے سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور وفاقی پولیس نے تواتر کے ساتھ دو دن آپریشن کیا۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق  دوسرے دن 16 رہائش گاہیں خالی کرائی گئیں۔ آپریشن کے پہلے دن 23 سرکاری رہائش گاہوں کا قبضہ چھڑایا گیا تھا۔ہم نیوز کے مطابق سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ 39 رہائش گاہوں کے تالے توڑ کر انہیں نئے الاٹیز کے حوالے کیا گیا۔

سی ڈی اے حکام نے ہم نیوز کو بتایا کہ سابق اراکین پارلیمنٹ عبدالوسیم، مولانا صلاح الدین، ثمن جعفری، شاہ جی گل آفریدی، احمد رضا  اور وسیم احمد سے زبردستی رہائش گاہیں خالی کرائی گئیں۔

سی ڈی اے حکام نے آپریشن کرکے  ریاض پیرزادہ، عثمان ابراہیم، ندیم عباس اور نواب افتخار کی رہائش گاہوں کا بھی قبضہ حاصل کیا۔

منتخب اراکین پارلیمنٹ کو رہائش کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں سرکاری رہائش گاہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق اگر کوئی رکن پارلیمنٹ کسی بھی وجہ سے پارلیمنٹ کا رکن نہ رہے تو اسے سرکاری رہائش گاہ خالی کرنا پڑتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز