بھارت کا یوم آزادی: کشمیریوں کا یوم سیاہ

سری نگر/مظفرآباد: مقبوضہ کشمیر اور آزاد  کشمیر میں آباد کشمیری آج بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھرپور طریقے سے ’یوم سیاہ‘منا کردنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کی دھرتی ماں پر بھارت نے غیرقانونی طریقے سے قبضہ کررکھا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کے لیے مقبوضۃ وادی چنار میں ہڑتال کی گئی ہے جس کی کال حریت قیادت نے مشترکہ طور پر دی تھی۔ حریت قائدین میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کی جانے والی ہڑتال کے باعث تمام دکانیں، تجارتی مراکز، دفاتر اور پٹرول پمپس مکمل طور پر بند ہیں، سڑکو ں پر ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے سناٹا چھایا ہوا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے حفاظت کے نام پر انتہائی سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں۔ سری نگر سمیت دیگر تمام شہروں و علاقوں میں فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

سری نگرکے متعلق ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فوج اورپولیس کے اہلکار سڑکوں پر گشت کررہے ہیں اور اس بات کی کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی بھی قیمت پر بھارت مخالف احتجاج نہ کیا جاسکے۔

مقبوضہ کشمیر کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوناور میں واقع کرکٹ اسٹیڈیم کو فوج، سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے محاصرے میں لیا ہوا ہے اور آنے و جانے والے راستوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے۔

کرکٹ اسٹیڈیم میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لوہے کی رکاوٹیں کھڑی کرکے اسٹیڈیم جانے اور آنے والے راستوں کو بند کیا گیا ہے اور خاردار تاریں بچھا کر کسی کی بھی رسائی کو ناممکن بنادیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق تمام حساس مقامات کے تحفظ کے لیے ان پر شارپ شوٹرز تعینات کیے گئے ہیں اور کلوز سرکٹ کیمروں سے آنے جانے والے لوگوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی چنار پہ قابض بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے۔

قابض بھارتی حکام عالمی برادری کو ڈھائے جانے والے مظالم سے بے خبر رکھنے کے لیے عموماً علاقے میں فون اور انٹرنیٹ سروسوں کی فراہمی معطل کردیتے ہیں اوریہ ان کا معمول ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی پولیس نے یاسین ملک کوسری نگر میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے۔

بھارتی پولیس نے سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، غلام نبی، غلام احمد گلزار، بلال صدیقی، حکیم عبدالرشید، محمد یوسف نقاش، مختار احمد، جاوید احمد میر، ظفر اکبر بٹ اور غلام نبی وسیم کوان کے گھروں پر نظربند کردیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حریت قائدین کسی بھی ایسے مظاہرے کی قیادت نہ کرسکیں جو بھارتی قبضے، جارحیت اور مظالم کے خلاف منعقد ہو۔

مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں سے اظہاریکجہتی کی خاطر میرپور آزاد کشمیر میں یوم سیاہ کے حوالے سے ریلی نکالی گئی جس میں انجمن تاجران کے رہنماؤں، وکلا اور سول سوسائٹی کی سرکردہ شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر دفتر میرپور سے نکالی جانے والی ریلی کی خاص بات اسکول کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت تھی۔ شرکائے ریلی نے اس موقع پر پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلا ف شدید نعرے بازی کی۔

شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ریلی کا مقصد بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لانا ہے۔

کوٹلی آزاد کشمیر میں بھی یوم سیاہ منایا گیا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دفتر سے احاطہ کچہری تک ریلی نکالی گئی جس میں بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔

شرکائے ریلی نے عالمی برادری اوربااثر طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نہتے اورمظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز