پولیس مقابلہ: ڈی پی او قصور کی ضمانت منظور

اربوں ڈالر کہاں جاتے ہیں؟ لاہورہائیکورٹ کا حکومت سے سوال

لاہور: لاہور ہارئی کورٹ نے قصور میں مبینہ پولیس مقابلہ میں مدثر نامی نوجوان کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) علی ناصر رضوی اور ڈرائیور امانت علی کی ضمانت  قبل  از گرفتاری منظور کرلی جبکہ ڈی ایس پی عارف رشید  اور  سب انسپکٹر یونس ڈوگر کی درخواستیں خارج کر دی۔

قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ  جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں ایک رکنی بینچ  نے ڈی پی او قصور اور دوسرے  پولیس افسران کی مبینہ ماورائے عدالت  قتل کیس میں ضمانت قبل  از گرفتاری کی درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکلان مدثر کے مبینہ پولیس مقابلے میں ملوث نہیں، انہوں  نے  کہا کہ ان کے موکلان کے نام ایف آئی آر میں نہیں، اس کے باوجود جے آئی ٹی نے انہیں قصور وار قرار دے دیا۔

ایڈیشنل  پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد نے دلائل  دیتے ہوِئے کہا کہ پولیس نے مدثر کو بے گناہ  قتل  کیا، انہوں نے کہا کہ قصور پولیس نے قانون ہاتھ میں لیا، ذمہ دار پولیس افسران اور اہلکاروں کو سزائیں نہ دی گئیں تو معاشرے میں انارکی پھیلے گی۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ تفتیش میں علی ناصر رضوی سمیت دیگر اہلکار قصور وار پائے گئے ہیں۔

عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اور ملزمان کے وکلا  کے دلاِئل سننے کے بعد درخواستوں  پر فیصلہ محفوظ  کر لیا، بعد ازاں  محفوظ  فیصلہ سناتے  ہوئے عدالت نے ڈی  پی او علی ناصر رضوی  اور ڈرائیور امانت علی کی ضمانت کے درخواستیں  منظور کر لی جبکہ ڈی ایس پی عارف رشید  اور سب انسپکٹر یونس ڈوگر کی درخواستیں خارج کر دیں۔

ضمانت  کی درخواستیں خارج ہونے پر ڈی ایس پی عارف رشید اور یونس ڈوگر عدالت سے فرار ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز