کانگو وائرس: تشخیص، علاج اور احتیاط

کانگو وائرس جسے ’دماغی بخار‘ کہا جاتا ہے کا طبی نام ’کریمین کانگو بخار‘ ہے ۔ اس کی دیگر اقسام ڈینگو, لینزا ,ایبولا اور فٹ ویلی وائرس کے نام سے جانی جاتی ہیں۔کانگووائرس کوروسی سائنسدانوں نے45-1944 ء میں دریافت کیا تھا ۔ یہ مرض پالتو جانوروں کی جلد پر پائے جانے والے ایک خاص قسم کے چیچٹر (Tich) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس سے متاثرہ شخص محض سات دن کی بیماری کے بعد دم توڑدیتا ہے ۔اس بیماری کی تشویش ناک بات اس کا آسانی سے ایک مریض سے دوسرے مریض میں منتقل ہوجانا ہے ۔

کانگو بیماری کی اہم علامات میں شدید تھکاؤٹ ‘ بخار، بے چینی، بے ہوشی، پٹھوں میں شدید کھنچاؤاور قوت مدافعت میں کمی شامل ہیں جس کی وجہ سے مریض کی طبیعت گری گری سی رہتی ہے اوروہ کمزوری محسوس کرتا ہے۔

مریض جس وقت مرض میں مبتلا ہوتا ہے اس دوران اس کی بھوک تقریباً ختم ہوجاتی ہے۔ بخار کی شدت میں عموماََ تین سے چار دن میں کمی آجاتی ہے لیکن اس کے بعد بخار پھر شدت اختیار کر لیتا ہے ۔ چہرے سمیت پورے جسم پہ سرخ دانے نکل آتے ہیں، پورا منہ چھالوں سے بھر جاتا ہے جن کے پھٹنے سے خون رسنے لگتا ہے ۔

اس کے بعد ایک یا دو روز میں جسم کے مختلف حصوں میں جلد کے نیچے خون جمنے لگتا ہے۔ بتدریج مسوڑھوں و ناک سے خون بہنے لگتا ہے نتیجتاً جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے جس سے مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے۔

اس بیماری کے اگلے مرحلے میں مریض کے دل کی دھڑکن کمزورپڑنے لگتی ہے اور فشار خون کم ہونے کی وجہ سے مریض پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے۔ دماغی بخار کے مرض میں مبتلا مریض کے پھیپھڑے، جگر اور گردے بھی  کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق چیچٹریوں کے کاٹنے کے بعد علامات ایک سے تین دن میں ظاہر ہوتی ہیں جب کہ متاثرہ جانور یا انسان کے خون سے متاثر ہونے کی صورت میں علامات پانچ سے سات دن میں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب تین ذرائع ہیں۔

اول: وائرس زدہ مریض یا متاثرہ جانور کے خون اوریا دیگر جسمانی رطوبت سے۔

دوئم: ایسی سرنج کے استعمال سے جو متاثرہ شخص یا جانور کے لگ چکی ہو اوریا پھر ایسی اشیا کے استعمال سے جو مریض کے زیراستعمال ہوں۔

سوئم: جانوروں میں پائے جانے والے کیڑوں کو جون جسم سے چھو جائے اور یا پھر وہ کیڑا کسی شخص یا جانور کو کاٹ لے۔

کانگو وائرس زیادہ تران جگہوں پر پیدا ہوتے ہیں جہاں مویشی رکھے یا پالے جاتے ہیں۔ جانوروں سے انسانوں میں نہایت تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ضروری ہے کہ مویشیوں کو آبادی سے دور رکھا جائے۔ طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کانگو وائرس سے بچنے کے لیے جس جگہ جانور رکھے جاتے ہیں وہاں کیڑے مار اسپرے کیے جائیں،متاثرہ جانوروں کو وقت ضائع کیے بغیر تلف کردیا جائے، چھوٹے بچوں، بزرگوں اورخواتین کو ان علاقوں میں لے جانے سے گریز کیا جائے جہاں جانوروں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے جاتے ہوئے خیال رکھا جائے کہ ہلکے رنگ اور لمبی آستینوں والے لباس زیب تن کریں تاکہ چیچڑوں کی موجودگی واضح ہو سکے۔ گھر آنے کے بعد  فوراََ نہا ئیں اور چیچڑی نظر آنے کی صورت میں کپڑے یا ٹشو سے پکڑکر پھینک دیں مگر ہاتھوں سے نہ چھوئیں ۔

ڈاکٹروں کے مطابق کانگو وائرس کی تصدیق اگر ابتدا میں ہوجائے تو مریض کے بچنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ مریض کی زندگی کو اس وقت زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں جب خون کا زیاں ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خوں کے زیاں کی صورت میں ضروری ہے کہ مریض کو فوری طور پر خون فراہم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جسم میں خون کی مطلوبہ مقدار پوری رہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی تک چونکہ کانگو وائرس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے اس لئے احتیاط ہی اس کا واحد علاج ہے۔ ابتداء میں اگر مرض کی تشخیص ہو جائے تو مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے اور طبی امداد دے کر مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

علاج کے دوران گھر والوں، تیمارداروں اور ڈاکٹروں کو سخت اختیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق مریض کے پاس ہمیشہ ماسک،  گاؤن اور دستانے پہن کر جائیں تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

کانگو وائرس مچھرو مکھی کے علاوہ مویشیوں کے فضلے سے بھی انسانوں تک پہنچتا ہے اس لیے مکھیوں و مچھروں سے بچاؤ کے لیے اسپرے اورفضلے کے اخراج کا مناسب انتظام بھی کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز