لیبیا میں جاری خانہ جنگی فیس بک تک پھیل گئی

لبیا: فیس بک پر ہتھیاروں کی خریدو فروخت کا انکشاف


طرابلس: لیبیا میں جاری خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی ہے اور اس نے گلی کوچوں کے بعد اب کمپیوٹر کی اسکرین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طرابلس اور دیگر کئی شہروں میں فیس بک کا استعمال ہتھیاروں کی کھلے عام خرید وفروخت، مخالفین کے خلاف پراپیگنڈا کرنے، دھمکیاں دینے اور اشتعال پھیلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ لیبیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ہتھیار فروخت ہو رہے ہیں اور ان کے پاس اس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

ایک غیرملکی جریدے کے مطابق فیس بک کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسایا جا رہا ہے بکہ مخالفین کو تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی فیس بک سے مدد حاصل کی جا رہی ہے۔

اخبار نے نرجس لی نامی ایک فیس بک پروفائل پر ہونے والی گفتگو کوخبر میں شامل کیا ہے جس میں مبینہ خاتون حامی گروپ کو بتا رہی ہے کہ کس طرح شہر کے ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد طرابلس سمیت جنگ سے متاثرہ دیگر شہروں میں فیس بک کو بلاک کر دیا گیا ہے تاہم اس پابندی کے خلاف عوام نے ٹوئٹر پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔


متعلقہ خبریں