عمران خان پر ماضی کا کوئی بوجھ نہیں، اکرام سہگل


اسلام آباد: سینئرتجزیہ کار اکرام سہگل نے کہا ہے کہ ملک کا وزیراعظم ایک ایسا آدمی بنا ہے جس پر ماضی کا کوئی بوجھ نہیں اس لیے وہ بلیک میل نہیں ہو گا۔

ہم نیوز کے پروگرام ’پاکستان ٹونائٹ‘ میں میزبان ثمرعباس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا ہونا بہت ضروری ہے جبکہ پاکستان کو غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہیے۔

لوٹی ہوئی رقم ملک میں واپس لانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب کسی شخص پر یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس نے منی لانڈرنگ کی ہے تو بیرون ملک موجود اس کے تمام اثاثہ جات منجمد کر دیے جاتے ہیں۔

پروگرام میں موجود پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی میں توازن نہیں ہے، پاکستان روس اور امریکہ کے درمیان توازن قائم نہیں کر پا رہا۔

رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جب بات ملک کے مفاد کی ہو گی تو سب اکٹھے ہوں گے، ایسے مواقع آتے ہیں جب سب ایک پیج ہر ہوتے ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چوہدری منظور نے کہا کہ ہر کسی کی خواہش ہے کہ افغانستان کا ریموٹ کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہو اور اس وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت آنے کے بعد بہت زیادہ ٹاسک فورسزبنائی جا رہی ہیں، ایسا لگتا ہے ان کے اوپر بھی ایک ٹاسک فورس بن جائے گی جو ان کی نگرانی کرے گی۔  

پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ ملک کی لوٹی ہوئی رقم واپس لانے کا ارادہ اچھا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

ہم نیوز کے اینکر پرسن عامر ضیا نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ کافی پیچیدہ رہی ہے اس لیے مائیک پومپیو کے اس دورے سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت ضرور واپس آنی چاہیے لیکن یہ آسان کام نہیں ہے، اس کے لیے پوری جنگ لڑنا پڑتی ہے۔

عامر ضیا نے بتایا کہ ماضی میں کچھ بڑے ناموں پر منی لانڈرنگ کے کیسز بنے لیکن ان کا کچھ نہیں ہوا۔


متعلقہ خبریں