امریکہ نے تنظیم آزادی فلسطین کا دفتر بند کرنے کا حکم دے دیا

امریکی پارلیمنٹ میں کورونا کیلئے 3 کھرب ڈالرز کا بل منظور

فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکہ نے واشنگٹن میں موجود تنظیم آزادی فلسطین (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن – پی ایل او) کا دفتر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

امریکا نے فلسطین کی 20 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کے بعد ایک اور اسرائیل نواز اقدام کا فیصلہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں موجود فلسطینی دفتر بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کے مطابق پی ایل او کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کے منصوبے کی حمایت کے لئے دفتر کھولنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن تنظیم نے جامع مذاکرات کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کیے اور قیام امن منصوبہ مسترد کرتے ہوئے امریکی پلان پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 

امریکا نے عالمی عدالت کو بھی اسرائیل سے متعلق اقدام پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکیورٹی مشیر جان بولٹن کے مطابق انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اسرائیل کے دفاع اور قومی سلامتی پر کیے گئے اقدامات کی پوچھ گچھ کرنے کی اہل نہیں ہے۔

فلسطین نے امریکی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے احکامات کو ناعاقبت اندیش فیصلہ قرار دیا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کا شکار فلسطین کے بڑے حصہ پر تنظیم آزادی فلسطین کی حکومت قائم ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز