سی پیک پر نظر ثانی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اعجاز اعوان

سی پیک پر نظر ثانی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اعجاز اعوان

اسلام آباد: ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی  راہداری (سی پیک) پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔

پروگرام نیوزلائن کی میزبان ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک  کو سی پیک سے بہت فائدہ حاصل ہو گا کیونکہ یہ ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع تصور (کانسیپٹ) ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ  کا کہنا تھا کہ شفاف چیزوں کو غیر شفاف کر دینا ہمارے ملک میں ایک مسئلہ ہے اور سی پیک جیسا منصوبہ بھی اسی کی نذر ہو گیا ہے، یہ ایک بہت بڑا معاہدہ ہے جو ہر وزارت اور ادارے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی پیک میں ہر چیز باقاعدہ طریقے سے ہونی چاہیے کیونکہ ذرا سی کوتاہی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

پروگرام میں شریک میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ سی پیک ایک بہت بڑا معاہدہ ہے لیکن اس میں کافی ابہام پیدا ہو گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ برس بعد سی پیک کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں تاہم نظر ثانی کرنے میں کوئی برائی بھی نہیں۔ چین سے ہمارے بہت اچھے اور پرانے تعلقات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے لیکن ملکی مفاد دیکھنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کی یہ معاہدہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان نہیں بلکہ یہ ایک وسیع معاہدہ ہے جس میں بہت سے شعبے شامل ہونے چاہئیں تھے۔

شو میں موجود تجزیہ کار اویس توحید کا کہنا تھا کہ چین ہمارا مشکل میں ساتھ دینے والا  اچھا دوست ہے لیکن سی پیک کے حوالے سے کوئی راز نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور بھارت دونوں کو سی پیک سے اس لیے مسئلہ ہے کیونکہ چین ایک بہت بڑی طاقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں یہ مسئلہ ہے کہ کسی کو یہ نہیں پتا کہ ہمیں کتنے پیسے واپس دینے ہیں، یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اورنج لائن سی پیک کی مد میں کیسے ہو سکتی ہے۔

اویس توحید نے کہا کہ سی پیک پر نظر ثانی کرنی چاہیے، جتنا یہ ہمارے لیے ضروری ہے اتنا ہی چین کے لیے بھی ہے اور دونوں ممالک اسے ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔


متعلقہ خبریں