بیگم کلثوم نواز کو سپرد خاک کر دیا گیا

ستمبر ۱۴, ۲۰۱۸
بیگم کلثوم نواز کو سپرد خاک کر دیا گیا

لاہور: بیگم کلثوم نوازکو جاتی امرا میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ سابق خاتون اول کی تدفیق میاں شریف کی قبر کے ساتھ کی گئی۔

اس سے قبل بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ  مولانا طارق جمیل نے پڑھائی۔ 

پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے وفود نے نمازجنازہ میں شرکت کی۔ پی ٹی آئی کے وفد کی سربراہی گورنر پنجاب چوہدری سرور کر رہے ہیں، ان کے ساتھ صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان اور صوبائی وزیر اسلم اقبال بھی شامل ہیں۔

پیپلزپارٹی کے وفد میں خورشید شاہ اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں۔ ہزاروں لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی میت لندن سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 کے ذریعے لاہور پہنچائی گئی، جس کے بعد ائیر پورٹ سے میت کو ایمبولینس کے ذریعے شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا۔

کلثوم نواز کی تدفین جاتی امرا میں شریف فیملی کے خاندانی قبرستان میں کی جائے گی۔ انہیں اپنے سسر میاں محمد شریف کی قبر کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

کلثوم نواز کی میت کو نماز جنازہ سے قبل ان کی خاندانی رہائش گاہ جاتی امرا منتقل کر دیا گیا تھا۔

کلثوم نواز کی نماز جنازہ کے لیے مولانا طارق جمیل جاتی امرا پہنچ گئے ہیں۔
کلثوم نواز کی نماز جنازہ کے لیے مولانا طارق جمیل جاتی امرا پہنچ گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کلثوم نواز کی میت وصول کرنے کے لیے شریف میڈیکل سٹی آئے تھے۔ میت کو شریف میڈیکل کمپلیکس کے سرد خانے میں پہنچانے کے بعد نواز شریف کو واپس جاتی امرا منتقل کر دیا گیا تھا۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو کلثوم نواز کے جنازہ و تدفین میں شرکت کے لیے پیرول پر رہا کیا گیا ہے۔ 

والدہ کے انتقال پر شدت غم سے نڈھال مریم نواز اپنے چچا شہباز شریف کے ساتھ
والدہ کے انتقال پر شدت غم سے نڈھال مریم نواز اپنے چچا شہباز شریف کے ساتھ

کلثوم نواز کی نماز جنازہ جمعہ کو شام پانچ بجے پڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نماز جنازہ میں شرکت کیلیے مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود اور دیگر افراد شریف میڈیکل سٹی پہنچ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کا اعلی سطحی وفد کلثوم نواز کے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جاتی عمرہ پہنچ گیا۔ خوشید شاہ، ۔یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ وفد میں شامل ہیں۔

جنازہ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے کارکنان سمیت متعدد رہنماؤں کو جاتی امرا میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ شریف خاندان کی رہائش گاہ کے باہر موجود کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف سے مل کر ان سے تعزیت کرنا چاہتے ہیں۔

سیکیورٹی کے لیے تعینات اہلکاروں کی جانب سے کارکنوں و رہنماؤں کو روکنے کی کوششیں کی جاتی رہیں تاہم وہ ابتدائی رکاوٹیں عبور کر کے جاتی امرا کے داخلی دروازے تک پہنچ گئے تھے۔

نماز جنازہ میں مختلف سیاسی، سماجی رہنماؤں اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے علاوہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

علاقہ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ نماز جنازہ میں شریک ہونے والے خاص افراد کے لیے گیٹ نمبر دو کو مختص کیا گیا تھا جب کہ عام افراد سوئی گیس سوسائٹی سے اندر داخل ہوئے۔ اس مقام پر بیرونی دیوار کو توڑ کر 30 واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے تھے۔

نماز جنازہ کے لیے طے کی گئی جگہ پر 20 ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے

ن لیگ کے رہنما خواجہ نزیر نے خصوصی انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنازہ میں شریک ہونے والے افراد کی تلاشی کا عمل اڈا پلاٹ پر کیا جائے گا۔ یہ مقام جنازہ گاہ سے کچھ پہلے مرکزی رابطہ سڑک پر واقع ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاتی امرا سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کے لیے افسران اور اہلکاروں کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔

نماز جنازہ میں سیاسی جماعتوں کے وفود شریک ہوں گے

سابق خاتون اول کی نماز جنازہ میں چئیرمین سینیٹ، اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی شرکت کریں گے، پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشید شاہ، یوسف رضا گیلانی اور قمر زمان کائرہ نماز جنازہ میں شریک ہوں گے ۔ گورنر پنجاب چودھری غلام سرور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا وفد بھی بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں شریک ہو گا۔

خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کا چار رکنی وفد بھی سابق خاتون اول کی نماز جنازہ میں شرکت کرے گا۔ جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود بھی جنازہ میں شریک ہوں گے۔

میت کی پاکستان روانگی سے قبل کلثوم نواز کی نماز جنازہ لندن کے ریجنٹ پارک مسجد میں ادا کی گئی تھی۔ نماز جنازہ میں مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف، سابق وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان، حسین ںواز، حسن نواز، اسحاق ڈار سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت لندن میں موجود پاکستانیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔  

کلثوم نواز کی میت کے ساتھ حسن اور حسین نواز کے اہلخانہ اور اسحاق ڈار کی فیملی بھی پاکستان پہنچی ہے۔ حسن نواز اور حسین نواز میت کے ساتھ نہیں آئے، انہوں نے والدہ کا آخری دیدار ہیتھرو ایئرپورٹ پر کیا جہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

شریف میڈیکل سٹی کا گراؤنڈ جہاں کلثوم نواز کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی
شریف میڈیکل سٹی کا گراؤنڈ جہاں کلثوم نواز کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی

تین بار پاکستان کی خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز گیارہ ستمبر کو طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئی تھیں۔ شائستہ اطوار، خاموش طبع اور ملنسار کلثوم نواز کا احترام معاشرے کے تمام طبقات میں یکساں طور پر کیا جاتا تھا۔

کلثوم نواز 1950 میں ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئیں، ان کا تعلق معروف پہلوان گاما پہلوان کے خاندان سے تھا۔

کلثوم نواز نے ابتدائی تعلیم مدرسہ البنات سے حاصل کی اس کے بعد لیڈی گریفن اسکول سے میٹرک کیا۔ لاہور کی معروف درسگاہ اسلامیہ کالج سے ایف ایس سی، جب کہ بی ایس سی کی ڈگری ایف سی کالج لاہور سے حاصل کی۔ 

کلثوم نواز جس دوران پنجاب یو نیورسٹی سے اردو میں ایم اے کر رہی تھیں، اس دوران ان کی منگنی سابق وزیراعظم نواز شریف سے طے پا گئی تھی۔ ان کے بڑے بھائی عبدالطیف کی شادی بھی شریف خاندان میں ہوئی تھی اور یہی رشتہ داری اپریل 1971 میں نواز شریف سے کلثوم نواز کی شادی کی وجہ بنی۔

کلثوم نواز کی شخصیت ایسی تھی کہ شریف خاندان کے بدترین مخالف بھی ان کا احترام کر تے تھے۔ سیاست میں دلچسپی نہ ہونے کے سبب انہوں نے امور خانہ داری کو ترجیح دی، لیکن 1999  میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے خاوند نواز شریف کی رہائی کی مہم چلانے کے لئے سیاسی میدان میں فعال کردار ادا کیا۔

طبیعت کی خرابی کے سبب گزشتہ برس لندن منتقل کی گئی کلثوم نواز نے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں اپنی آخری سانس لی تو وہ زندگی کی 68 بہاریں دیکھ چکی تھیں۔ اسی طبی مرکز میں علاج کے دوران 2017 میں انہیں کینسر کا مرض تشخیص کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز