کلثوم نواز کا جنازہ، سوشل میڈیا بھی تعزیت میں شریک

لاہور: تین بار پاکستان کی خاتون اول رہنے والے بیگم کلثوم نواز کی میت لاہور میں ان کی خاندانی رہائش گاہ جاتی امرا سے متصل شریف میڈیکل سٹی پہنچا دی گئی ہے۔ اسی مقام پر جنازہ کے بعد ان کی تدفین شریف فیملی کے خاندانی قبرستان میں کی جائے گی۔

سابق خاتون اول کی وفات پر مختلف سماجی اور سیاسی شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جاتی امرا پہنچنے والوں کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کلثوم نواز کی رحلت پر اپنے جذبات کا اظہار کر ہے ہیں۔

انوشہ نامی ایک صارف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کلثوم نواز کی درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

خواجہ شہیر کہتے ہیں کہ جمہوریت کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

رابعہ آفتاب کہتی ہیں کہ آمر سے ٹکرانے والی یہ عورت ہمارے لیڈر اور اپنے باؤ جی کی بہت بڑی طاقت تھیں۔

صبا سلمان نے بھی کلثوم نواز کو خراج تحسین پیش کیا۔ 

ڈاکٹر ماریہ بٹ نے کلثوم نواز کی آخری آرام گاہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کے بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ 

ذیشان ملک نے بھی کلثوم نواز کو خراج تحسین پیش کیا۔

سابق خاتون اول کلثوم نواز طویل عرصہ سے کینسر کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد گیارہ ستمبر کو لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئی تھیں۔ کلثوم نواز کی تدفین اپنے سسر میاں محمد شریف کی قبر کے پہلو میں کی جائے گی۔

68 سالہ کلثوم نواز زندگی کا بڑا حصہ ایک گھریلو خاتون کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہیں تاہم اپنے شوہر نواز شریف کی سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کچھ عرصہ میدان سیاست میں بھی فعال رہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز