ریلوے خسارہ کیس، چیف جسٹس پاکستان سعد رفیق پر برہم

Saad Rafique

وفاقی وزیر ریلوے نے ٹرین حادثے کی ابتدائی تفصیلات قوم کے سامنے رکھ دیں


لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس میں سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پر برہم ہو گئے اور کہا کہ اپنا رعب گھر چھوڑ کر آیا کریں، یہاں آڈٹ رپورٹ کا جواب دیں۔

ہفتہ کو عدالت عظمی کی لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کی خسارہ رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ نیب کا کیس بنتا ہے۔ 

عدالت کے حکم پر جب خواجہ سعد رفیق پیش پوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب کیا آپ نے آڈٹ رپورٹ دیکھی ہے ؟

خواجہ سعد رفیق نے جواب دیا کہ انہوں نے آڈٹ رپورٹ نہیں دیکھی، ہم نے ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے اور ہم عدالت میں اپنی بے عزتی کرانے نہیں آتے۔  

عدالت نے ریلوے  کے وکیل سے جب استفسار کیا کہ آڈٹ رپورٹ کہاں ہے ؟ تو وکیل نے جواب دیا کہ رپورٹ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریلوے افسر کہا ہے وہ جواب دیں۔ ریلوے کے افسر نے عدالت کو بتایا کہ نئی حکومت کی وجہ سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر ہو گئی ہے ہم دس دن میں رپورٹ پیش کر دیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان دوران سماعت خواجہ سعد رفیق پرسخت برہم ہو گئے۔

چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق سے استفسار کیا کہ وہ کس غصے میں آئے ہیں؟ سعد رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی غصے میں نہیں ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کی شکل بتا رہی ہے، سعد رفیق نے جواب دیا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔ 

مسلم لیگ نون کے سنئیر رہنما نے کہا کہ انہیں تباہ حال ریلوے دیا گیا تھا جسے انہوں نے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا اور کوئی لوٹ مار نہیں کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سعد رفیق پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ اپنا رعب گھر چھوڑ کر آیا کریں یہاں کوئی آپ کی بے عزتی نہیں کر رہا اور جو پوچھا جائے اس کا جواب دیں،

سعد رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ شاباش لینے آتے ہیں لیکن یہاں تو ڈانٹ پڑ جاتی ہے، انہیں کوئی آڈٹ رپورٹ نہیں ملی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے خواجہ سعد رفیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ جواب دیں، پھر دیکھیں کہ شاباش ملتی ہے یا نہیں۔ 

سپریم کورٹ نے رپورٹ مکمل نہ ہونے پر ریلوے کے وکیل پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے سعد رفیق سے کہا کہ 20 دن کے اندر جواب دیں جس پر انہوں نے کہا کہ ان کا الیکشن ہے جب کہ انہوں نے وکیل بھی کرنا ہے اور رپورٹ بھی پڑھنی ہے، اس لیے انہیں جواب کے لیے 30 روز کی مہلت دی جائے۔ جس پر عدالت نے خواجہ سعد رفیق کی استدعا منظور کر لی۔ 


متعلقہ خبریں