گرین لائن منصوبہ کی فنڈنگ، سندھ حکومت وفاق سے ناخوش


کراچی: صوبائی دارالحکومت کراچی میں زیر تعمیر گرین بس منصوبے کی بروقت تعمیر کے لئے وفاقی حکومت نے منصوبے کو اپنے وسائل سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر سندھ حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے فیصلہ پر تحفظات کا اظہار کیا۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سے ٹاور تک 27 کلو میٹر طویل گرین لائن منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت کے اشتراک سے تعمیر کیا جا رہا تھا لیکن اس کی تکمیل میں مختلف مسائل پیدا ہو رہے تھے۔

گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ منصوبے کو 2019 تک مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے اس کی مکمل فنڈنگ وفاق کرے گا۔

کراچی کے کروڑوں شہریوں کو سستی اور تیز رفتار سفری سہولتیں پہنچانے کے لئے وفاقی حکومت نے ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کا آغاز کیا لیکن گرین لائن بس منصوبے کے روٹ میں تین بار تبدیلی کی گئی، جس سے نہ صرف منصوبے کی لاگت  بڑھی بلکہ منصوبہ تاخیر کا شکار بھی ہوا۔

کراچی میں ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے لیے سہراب گوٹھ سے نمائش تک،  بلیو لائن اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس تک، ایدھی لائن اور ملیر سے ٹاور تک براؤن لائن بنائی جانی ہے، لیکن گرین لائن اور ایدھی لائن کے علاوہ  کسی منصوبے پر کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔

کروڑوں مکینوں کا مسکن کراچی اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ کی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی سفری ضرورتیں پورا کرنے کے لیے شہر میں 20 ہزار سے زائد بسوں کی ضرورت ہے۔

شہر میں موجودہ سفری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نجی شعبہ کے تحت محض آٹھ ہزار بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سڑکوں پر موجود بسوں کی تعداد میں ہزاروں کی کمی واقع ہوئی ہے۔


متعلقہ خبریں