غیرمعیاری کاربونیٹڈ مشروبات کے استعمال کا انکشاف

اسلام آباد : وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری کاربونیٹڈ مشروبات کا استعمال ہو رہا ہے، رپورٹ میں بڑی کمپنیوں کے معیار کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے۔

‘ہم نیوز’ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی رپورٹ کی کاپی حاصل کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں مشروبات بیچنے والی مشہوربرانڈز کی 16 بڑی کمپنیوں کے لائنسزکو زائد المیعاد قراردیا گیا ہے۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان اسٹینڈرڈز کوالٹی اینڈ کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کی رپورٹ میں پاکولا آئس کریم سوڈا کوغیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔ ایپل سڈرا، فریش لائم، آئس کریم لیچی میں مضر صحت اشیاء کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

زائد المیعاد 16 لائسنسز میں 13 کاربورنیٹڈ اور تین اورنج جوس بنانے والی مشہور کمپنیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشہور برانڈ ایپل سڈرا اور پاکولا کے لائسنس کی میعاد چھ ماہ قبل ختم ہو چکی ہیں جب کہ کاربونیٹد مشروب نیو اکوا کا لائسنس جون 2018 سے زائد المیعاد ہے۔

مشہوربرانڈ کوئس پرفیکٹ پودینا اورکوئس پرفیکٹ آڑو کا لائسنس بھی زائد المیعاد ہے، دونوں برانڈز نے گزشتہ آٹھ ماہ سے لائسنسز کی تجدید نہیں کرائی۔

پی ایس کیو سی اے کی رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ کوئس پرفیکٹ ریڈ گریپس، لیچی، فریش لائم، پرفیکٹ ایپل کا لائسنس بھی زائد المیعاد ہے۔ جب کہ کوئس پرفیکٹ اناراور پرفیکٹ آئسکریم سوڈا کا لائسنس بھی ایکسپائر ہوچکا ہے۔

ملک میں بکنے والے مشہور برانڈز کے تین اورنج جوسزکی کمپنیوں کے لائسنسز  بھی زائد المیعاد ہیں جن میں فروٹین اورنج، فریش برینڈ اورنج جوس اوراینی ٹائم “کینو” کے لائسنس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل 27 کمپنیاں کاربونیٹڈ مشروبات اور چار اورنج جوس کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران 14 کمپنیوں کو کاربونیٹڈ ڈرنکس کا لائسنس جاری ہوا۔

پی ایس کیو سی اے  نے گزشتہ اڑھائی سال سے کسی بھی کمپنی کے مشروب کے نمونے نہیں لیے، آخری بار پی ایس کیو سی آر نے پانچ مارچ 2016 میں نمونے حاصل کیے تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز