استاد امانت علی خان کو بچھڑے 44 سال بیت گئے

اسلام آباد: کلاسیکی موسیقی میں ’سند‘ کا درجہ رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے استاد امانت علی خان کو داعی اجل کو لبیک کہے چار عشروں سے زیادہ کا وقت گزر گیا مگر ان کے گیت آج بھی مداحوں اورفن موسیقی کا شغف رکھنے والوں کے کان میں رس گھولتے رہتے ہیں۔

بھارتی پنجاب کے علاقہ ہوشیارپور میں پیدا ہونے والے استاد امانت علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی اور اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کر گانا شروع کیا۔

قیام پاکستان سے قبل انہوں نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ خداد صلاحیت اور والد کی تربیت کے باعث کم عمری ہی میں وہ دادرا، ٹھمری اورغزل نہایت مہارت سے گانے لگے تھے۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ غزل کو کلاسیکی موسیقی سے ہم آہنگ کرنے میں شام چوراسی گھرانے کا نہایت اہم ترین کردار ہے۔

واقفان حال اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیں کہ جب کوئی گلوکار اونچی ’لے‘ میں گاتا ہے تو وہ اپنی آواز پہ کنٹرول کھو دیتا ہے لیکن قدرت نے انہیں یہ اعجاز بخشا تھا کہ وہ اپنی آواز پر مکمل کنٹرول رکھنے پہ قادر تھے۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے، موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے، مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے  اور یہ آرزو تھی کہ تجھے گل کے روبرو کرتے جیسے گیت ان کی فنی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ 

چاند میری زمیں پھول میرا وطن  اور اے وطن پیارے وطن جیسے ملی نغموں نے ان کی شہرت کو چار چاند لگائے لیکن ابن انشا کی غزل ’ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘ جب انہوں نے گائی تو جو شہرت انہیں ملی اس کی دوسری مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔

استاد امانت علی خان کے فن کی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی ان کے گیت لوگوں کو شدت جذبات سے مغلوب کر دیتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہوئے۔

استاد امانت علی خان کا انتقال 52 سال کی عمرمیں17 ستمبر 1974 کو ہوا۔ وہ لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز