عوام پر مہنگائی کا بم: موبائل سمیت دیگر اشیا مہنگی

September 19, 2018

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے پیش کردہ منی بجٹ نے عوام الناس پر مزید مہنگائی کا بم گرانا شروع کردیا ہے۔ قیمتوں میں اچانک ہونے والے اضافے کے سبب دکانداروں اور خریداروں کے درمیان تلخ کلامی کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے باعث مارکیٹوں میں خریداروں کے رش میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ہم نیوز کو آبپارہ مارکیٹ کی موبائل مارکیٹ میں نئے اورپرانے موبائل فونز کی خرید و فروخت کرنے والے دکانداروں نے بتایا کہ ابھی تک ہمیں واضح طورپر تو معلوم نہیں ہے کہ قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے لیکن ہمیں سننے میں آیا ہے کہ 20 ہزار روپے تک کے فون کی قیمت میں تقریباً چار ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

آبپارہ مارکیٹ میں موبائل فون کی خریداری کی غرض سے آئے ہوئے راؤ احسان الحق نے کہا کہ دکانداروں کی کوشش یہ نظر آرہی ہے کہ میں کوئی استعمال شدہ موبائل فون خرید لوں اوروہ نیا موبائل بیچنے سے اجتناب کررہے ہیں۔

اس ضمن میں اصل صورتحال یہ نظر آئی کہ فون کے تاجروں کی کوشش ہے کہ انہیں کمپنیوں کی جانب سے واضح ہدایات مل جائیں تو اس کے بعد ہی وہ نئے نافذ کردہ ٹیکسز کے ساتھ انہیں فروخت کریں۔

ایک دکاندار راجہ اسحاق کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے منی بجٹ کے ذریعے جو ٹیکسز نافذ کیے ہیں وہ فیصد میں ہیں اوردکاندار اپنی کم علمی کے سبب انہیں دیکھ کر اصل قیمت جاننے سے قاصر ہیں اورکوشش کررہے ہیں کہ راولپنڈی یا بلیو ایریا سے اس سلسلے میں ان کی کوئی رہنمائی ہوجائے۔

ایک سوال پر کئی دکانداروں نے اعتراف کیا کہ خریداروں کے رش میں جو کمی نظر آرہی ہے اس کی ایک وجہ تو محرم الحرام کی آٹھ تاریخ ہے اوردوئم قیمتوں میں ہونے والا ’غیر واضح‘ اضافہ ہے۔ 

موبائل فون کی خرید و فروخت کرنے والے ایک ’بڑے‘ تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق چھ سے آٹھ ہزار روپے تک کے موبائل پر 250 روپے تک کی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جب کہ 13 سے 15 ہزار روپے تک کے موبائل پر دس فیصد تک مزید ڈیوٹی کا اطلاق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے مزید مہنگے موبائل پر ڈیوٹی 20 فیصد بڑھائی گئی ہے جس کے سیدھے سے معنی یہ ہوں گے کہ 20 ہزار روپے والا موبائل اب 24 ہزار روپے میں فروخت ہوگا۔

قیمتی اورمہنگے موبائل فونز کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ معلومات آپ کو بلیو ایریا سے مل سکتی ہیں کیونکہ وہاں پر زیادہ ’بڑے‘ گاہک آتے ہیں۔

آبپارہ پر پان سگریٹ کی دکان ’سنگم پان ہاؤس‘ کے نام سے چلانے والے نعیم کا کہنا ہے کہ اچانک تمام سگریٹ کے پیکٹس پر دس روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو معروف برانڈ ایسے ہیں جن کے پیکٹ پر 15 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کئی دہائیوں سے اسی کاروبار سے وابستہ نعیم نے اعتراف کیا کہ آج صبح سے خریداروں سے صرف جھگڑے ہورہے ہیں حالانکہ میرے سارے گاہک برسوں پرانے ہیں۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب سے چھالیہ مہنگی ہوئی ہے اورمیٹھے پان کی قیمت 40 روپے کرنا پڑی ہے اس وقت سے اس کی فروخت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں قائم سنگم پان ہاؤس ایک ایسی دکان ہے جہاں ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر تمام اہم پاکستانی سیاستدان، فنکار، کھلاڑیوں اوردیگر شخصیات جا چکی ہیں۔

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی جب ورلڈ کرکٹ کپ جیتنے کے بعد پاکستان آئے تھے اورشوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی تعمیر کا چندہ جمع کرنے کے لیے انہوں نے تاجروں کی دعوت پر آبپارہ کا دورہ کیا تھا تو وہ بھی سنگم پان ہاؤس گئے تھے۔ 

سنگم پان ہاؤس کا دورہ کرنے والی تمام اہم شخصیات کی تصاویر دکان پر آویزاں ہیں جن میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اورسابق کپتان وسیم اکرم بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے منی بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ غریب اور متوسط طبقے پر کوئی اثرنہیں پڑے گا جب کہ شہر کے کئی علاقوں سے یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ ہوٹل مالکان نے روٹی کی قیمت میں بھی ایک روپے اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز