آج کا فیصلہ نواز شریف کی بڑی کامیابی ہے، احسن اقبال


اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ اور ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ مریم نواز کو اور نوازشریف کو آج جو عارضی ریلیف ملا ہے یہ کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ‘بڑی بات’ میں ان کا کہنا تھا کہ نیب نوازشریف خاندان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام تھا۔ عوام کو آج سب دکھائی دے رہا ہے کہ یہ سازش نوازشریف کو 2018 الیکشن سے دور رکھنے کے لیے اور عمران خان کو الیکشن میں جتوانے کے لیے کی گئی تھی۔  نوازشریف کی سزا بے بنیاد تھی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کبھی اتنی زیادہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات پر تحفظات ظاہر نہیں کیے جتنے اعتراضات اس مرتبہ اٹھائے گئے، نوازشریف کو الیکشن سے دور رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور بھرپور دھاندلی کی گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وطن واپس آ کر نوازشریف نے اپنے مضبوط نظریے کی بنا پر ایک مثال قائم کی ہے۔ نیب یا عدلیہ کے فیصلوں کے میرٹ پر اپنی رائے دینا اور اعتراض کرنا ہمارا قانونی حق ہے۔

دوسری جانب مہمان اینکر پرسن ندیم مک کا کہنا تھا کہ ایون فیلذ ریفرنس کیس کی قانونی بنیادیں جانے بغیر نیب کا سزا سنا دینا مناسب قدم نہیں تھا اور یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں اس کے خلاف ایکشن لیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب تک نوازشریف کا اپیل کا عمل مکمل نہیں ہوتا اور ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں آ جاتا تب تک انہیں سزا نہ سنائی جائے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین کامران مرتضیٰ نے کہا کہ  پاکستان جیسے ملکوں میں سیاسی مقاصد کے لیے ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے، اتنے بڑے کیس کے فیصلے کے بعد جو پیش رفت ہوئی ہے اس کے بعد  ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ والا معاملہ ہو گیا ہے۔ یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں سزا نہیں ہونی چاہیے تھی، اب جو پیش رفت ہوئی ہے وہ نوازشریف اور مریم نواز کا قانونی حق تھا۔

جسٹس(ر) شائق عثمانی کا موقف تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی سزا کی معطلی ان کی اپیل پر اثر انداز نہیں ہو گی، اپیل کا معاملہ اور بنیادیں بالکل الگ ہیں۔


متعلقہ خبریں