دماغی امراض کا سبب:بیمار انسانی خلیے

جس طرح انسان کی موت ہوتی ہے بالکل اسی طرح انسانی جسم کے خلیوں کی بھی موت ہوتی ہے۔  

میڈیکل سائنس کے مطابق نئے خلیے پرانے خلیوں سے بنتے ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسانی خلیے میں نیا خلیہ تخلیق کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

علم سائنس کے مطابق خلیوں کی موت ہی سے انسان کے مختلف اعضا بیماریوں کا نشانہ بننا شروع ہوتے ہیں اورپھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلاجاتا ہے۔

خلیے کی موت سے پہلے اگر ان کی تعداد کسی اعضا میں زیادہ ہو تب بھی اعضا خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان بیماریوں میں سے ایک اہم بیماری قوت یاداشت کا ختم ہو جانا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر ان خراب خلیوں کو دماغ میں جمع ہونے سے روکا جائے تو قوت یاداشت کا خاتمہ سمیت دیگر دماغی امراض کو ابتدائی مراحل میں روکا جا سکتا ہے۔ 

امریکہ کے مییو کلینک کی اس تحقیق کے مطابق ان خراب خلیوں کا دماغ میں جمع ہونے کا ذہنی بیماری سے براہ راست تعلق ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں پر ان خلیوں کی کمی کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔  تجربے کے لئے ان چوہوں کا استعمال کیا گیا جن میں الزہائمرز جیسی بیماری کے اثرات پائے گئے۔ ادویات کا استعمال کرتے ہوئے جب ان چوہوں میں ان خلیوں کو جمع ہونے سے روکا گیا تو ان کی بیماری کے اثرات بھی ختم ہوتے دکھائی دیے۔ 

تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ انسانی جسم پراس کے تجربات و مشاہدات ابھی بہت دور کی بات ہے۔ چوہوں پر کامیاب تجربات کے بعد بھی انسانوں پر تجربات حکومتی منـظوری کے بغیر نہیں کیے جاسکتے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ فی الوقت ادویہ ساز کمپنیاں بھی اس ضمن میں پیشرفت نہیں دکھارہی ہیں۔

مییو کلینک کی تحقیق میں شامل ایک فرد کا کہنا تھا طریقہ علاج کی طرف جانے سے پہلے اس تحقیق کے ذریعے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان خلیوں کی خرابی کن وجوہات کی بنا پر کیونکر ہوتی ہے؟

میڈیکل سائنس کے مختلف رسالوں میں کچھ عرصہ قبل یہ بات بھی شائع ہوئی تھی کہ جب انسان سوتا ہے تو اس کے جسم سے ناکارہ اورمردہ خلیے خودبخود بستر پرجھڑ جاتے ہیں لیکن بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود انسانی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

سائنسدانوں کا مشورہ تھا کہ دوبارہ بستر پر سونے سے قبل اسے جھاڑ لینا چاہیے وگرنہ مردہ خلیے دوبارہ انسانی جسم میں داخل ہوکر اسے بیمارکرنے کا سبب بنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں