سودی نظام کا خاتمہ آئینی تقاضا ہے، چیف جسٹس شریعت کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس شریعت کورٹ نجم الحسن نے کہا ہے کہ سودی نظام کا خاتمہ آئینی تقاضا ہے اور سودی نظام کا خاتمہ پارلیمان نے ہی کرنا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت میں وطن عزیز میں سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس شریعت کورٹ نجم الحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے رباء کی تشریح کرے پھر مقدمے کو آگے بڑھایا جائے اور سپریم کورٹ کی طرف سے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق مقدمے میں اٹھائے گئے سوالات کو پہلے حل کیا جائے۔

چیف جسٹس شریعت کورٹ نے کہا کہ ہمارا دائرہ اختیار ذرا مختلف ہے کیونکہ شریعت کورٹ صرف ہدایات جاری کر سکتی ہے اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔

عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر رباء اور سود کی تشریح سے متعلق تیاری کر کے آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

ملک سے سودی نظام کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی نے شریعت کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں