سانحہ ماڈل ٹاؤن: شریف برداران ودیگر کی طلبی کی درخواست مسترد

فوٹو: فائل

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نوازشریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ سمیت 12 افراد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں طلبی کے لیے دائر پاکستان عوامی تحریک کی درخواست مسترد کر دی۔

بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ فل بینچ نے نے پاکستان عوامی تحریک کے جواد حامد کی درخواست پر 27 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بینچ میں جسٹس محمد قاسم خان کے علاوہ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس سرداراحمد نعیم شامل تھے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور دیگر سابق حکومتی عہدیداروں کے نام استغاثہ سے خارج کردیے گئے ہیں، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے حقائق کے برعکس فیصلہ کیا ہے، اس لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف سمیت دیگر حکومتی شخصیات کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے۔

معاملہ کے متعلق جاری کردہ فیصلہ عدالت نے کثرت رائے سے کیا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس قاسم خان نے اختلافی نوٹ  تحریر کیا ہے۔ 

عدالت نےحمزہ شہباز، پرویز رشید، عابد شیر علی، خواجہ آصف، چوہدری نثار، میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان، ڈاکٹر توقیر شاہ کی طلبی کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

اسی عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی طلبی کے نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کی اور انہیں حکم دیا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوں۔جسٹس قاسم خان نے مشتاق سکھیرا کی درخواست پر فیصلہ میں اضافی نوٹ بھی تحریر کیا۔ 

عوامی تحریک نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا تھا۔ فیصلے سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی، پولیس کی اضافی نفری عدالت کے باہر تعینات کی گئی تھی۔

عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کا ردعمل

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے فیصلہ پر اپنے درعمل میں عوامی تحریک کے سربراہ  ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ طاقتور آج بھی طاقتور اور انصاف کمزور ہے، صرف ملازم طلب کیے گئے مالکان نہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے سوال پوچھا کہ جن لوگوں نے سانحہ ماڈل کا منصوبہ بنایا اگر انہیں طلب نہیں کیا جائے گا تو انصاف کیسے ہو گا؟ کیا 17 جون 2014 ء کو انسان نہیں چیونٹیوں کو مارا گیا؟

پی اے ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی دہشت گردی کا منظر میڈیا کے ذریعے پوری دنیا نے براہ راست دیکھا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے خلاف عوامی تحریک کے کارکنان نے مزاحمت کی تھی۔ لاہور پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں 14 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز