پشاوریونیورسٹی: فیس اضافہ کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج


پشاور: جامعہ پشاور میں فیسوں میں اضافہ پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کے لاٹھی چارج سے پانچ طلبہ زخمی ہو گئے۔

ہم نیوز کے مطابق فیسوں میں اضافہ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر کے دفتر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے خواہاں طلبہ کے خلاف کارروائی میں درجنوں طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز پشاور یونیورسٹی میں زیرتعلیم طلبہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور کلاس رومز سے نعرے لگاتے ہوئے مرکزی راستہ پر جمع ہوئے۔

احتجاج کے دوران تمام طلبہ تنظیموں کے رہنما اور کارکنان نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ فیسوں میں ظالمانہ اضافہ کو فی الفور واپس لیا جائے۔

طلبہ تنظیموں پر مشتمل متحدہ طلبہ محاذ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے فیسوں میں اضافہ واپس لینے پر احتجاج کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ نوٹس نہیں لے رہی۔

student protest in peshawar university

پولیس کارروائی کے بعد طلبہ وقتی طور پر منتشر ہوئے تاہم پھر سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوئے اور فیسوں میں اضافے کا اعلان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

طلبہ پر تشدد افسوسناک ہے، شوکت یوسفزئی

طلبہ پر تشدد کے حوالے سے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ انہیں معاملہ پر افسوس ہے۔ علاقائی اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا ہے، فیسوں میں اگر اضافہ ہوا ہے تو یہ یونیورسٹی کا داخلی معاملہ ہے تاہم حکومت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہیں تاہم یونیورسٹی سے فارغ ہو جانے والوں کے پشاور یونیورسٹی میں رہنے کے معاملہ کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ جو اپنی تعلیمی مدت پوری کر چکے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طلبہ پر جو تشدد ہوا وہ قابل افسوس ہے، ہم طلبہ کی عزت کرتے ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے پس پردہ سیاسی جماعتیں ہیں جو چند روز قبل یونیورسٹی میں کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں بے دخل کیے گئے عناصر کو محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی فیسوں کو دس ہزار سے بڑھا کر 52 ہزار کر دیا گیا ہے جب کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فیسوں میں چند فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

طلبہ پر لاٹھی چارج کے متعلق یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں احتجاج کے بعد جامعہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

فیسوں میں اضافہ نہیں، اصل مسئلہ کچھ اور ہے، یونیورسٹی ترجمان

یونیورسٹی ترجمان علی عمران کا کہنا ہے کہ متحدہ طلبہ محاذ کی قیادت ان طلبہ پر مشتمل ہے جو یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی میں آپریشن کے بعد غیر متعلق عناصر کو بے دخل کرنے کے معاملہ پر سیاسی جماعتوں سے وابستہ طلبہ تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ پانچ گھنٹے تک انتظامیہ منتظر رہی، طلبہ کا احتجاج جاری رہا، جب انہوں نے ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کی تو مجبورا پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

علی عمران کا کہنا تھا کہ طلبہ سے طے ہوا تھا کہ وہ ایک جگہ رہ کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے تاہم دوپہر کے وقت طلبہ نے انتظامی بلاک کی جانب مارچ کی کوشش کی تو مجبورا کارروائی کرنا پڑی۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پر امن احتجاج طلبہ کا جمہوری حق ہے، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اپنی مسلسل ناکامیوں کا بدلہ طلبہ اور نوجوانوں سے نہ لیں۔

پشاور یونیورسٹی کے واقعہ کے بعد ظاہر کیے گئے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ جامعہ پشاور کے طلبہ اور طالبات اپنے حقوق کے لئے احتجاج کر رہے تھے۔ گرفتار طلبہ کو فوری رہا کیا جائے اور فیس کم کی جائے، زخمی طلبہ کو بہتر علاج معالجے کی سہولت دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ پر وحشیانہ تشدد کرنے اور کرانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز