پیوٹن کا دورہ بھارت: معاہدے پر دستخط ہوں گے؟

اسلام آباد: امریکہ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ  روسی میزائل نظام ایس- 400 خریدنے سے باز رہے۔ عالمی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ایسی خریداری امریکی پابندیوں کے زمرے میں آئے گی۔

ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق روس کے ساتھ دفاعی و خفیہ امور  کے شعبوں میں تجارتی  تعاون  امریکہ  کی عائد کردہ پابندیوں کے دائرے میں آتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے اپنی بات کا اعادہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب روس کے صدرولادی میر پیوٹن دو روزہ دورے پر دہلی پہنچے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سربراہی ملاقات کہ حصہ ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان روسی دفاعی میزائل سسٹم ایس-400 کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے اورغالب امکان ہے کہ اس دورے میں اس معاہدے پر دستخط بھی ہوجائیں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان اگر معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو اس کی مالیت تقریباً پانچ ارب ڈالرز کے مساوی ہوگی۔

خبررساں ایجنسیوں اوراداروں کے مطابق روس اور بھارت کے مابین دفاعی، جوہری توانائی، معیشت اور خلائی تحقیق کے میدانوں میں تقریباً 20 معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر کی آمد پر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے انہیں ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا جس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی ملاقات ہوئی۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے حسب معمول روسی صدر کو جھپی ڈالی جس کے بعد دونوں کے درمیان خیرسگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوا۔

مؤقر بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کے سربراہان اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ایران کی پٹرولیم مصنوعات پر عائد ہونے والی پانبدیوں پر بھی بات چیت کریں گے۔

بھارت اور روس نے اکتوبر 2016 میں پانچ ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرینے کے ایک سودے پر پر بات چیت مکمل کر لی تھی۔

اگست 2017 میں امریکی صدرٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات پر روس کے خلاف کئی طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جس کے تحت روس کی 39 کمپنیوں سے تجارت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکی اعلان کے تحت جن روسی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں وہ کمپنی بھی شامل ہے جو ایس-400 دفاعی میزائل سسٹم تیار کرتی ہے۔

گزشتہ روز روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے مشیریوری اوشاکوف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی کہا گیا تھاکہ صدر پیوٹن کی موجودگی میں ایس-400 میزائل دفاعی نظام کے معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔

عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں یہ طے ہوجائے گا کہ کیا امریکہ، بھارت کو کسی قسم کی ’غیرمعمولی‘ رعایت دینے کے لیے تیارہے یا نہیں؟ اوریہ کہ بھارت واشنگٹن کی مرضی و منشا کے بغیر اپنے پرانے سیاسی و اسٹرٹیجک اتحادی روس کے ساتھ کیا رویہ اپناتا ہے؟

سیاسی مبصرین یقین رکھتے ہیں کہ صدر پیوٹن کا دورہ بھارت جنوبی ایشیا میں نئی صف بندی کے امکانات کو بھی واضح کردے گا۔ عالمی مبصرین تاحال منتظر ہیں کہ دونوں ممالک امریکی رضامندی کے بغیر کیا معاہدوں پر دستخط کرلیں گے؟

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز