بھارتی وزیر پر خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کا الزام

اکتوبر ۱۰, ۲۰۱۸

نئی دہلی: بھارت کے وزیرمملکت برائے خارجہ مبشر جواد اکبر پر چھ خواتین صحافیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ان کا ’استحصال‘ کیا یا ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں کا مؤقف ہے کہ بھارتی وزیرمملکت نے یہ سب کچھ اس وقت کیا جب وہ اخبار کے ایڈیٹر تھے۔

وی او اے کے مطابق ایم جے اکبر سے اس سلسلے میں ان کا مؤقف لینے کے لیے ای میل، فون اورواٹس اپ پر بھی رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔

مبشر جواد اکبر اس وقت ایک وفد کے ہمراہ نائیجیریا کے دورے پر ہیں۔

وائس آف امریکہ کے مطابق بھارت میں ’استحصال‘ کے خلاف سوشل میڈیا پر شروع ہوئی مہم ’می ٹو‘ زور پکڑتی جا رہی ہے۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ کئی خواتین نے مرد اداکاروں اور ڈائریکٹروں پر استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔

ایم جے اکبر پہلے سیاست دان ہیں جن پر ایسا الزام عائد کیا گیا ہے۔ وی او اے الزام عائد کرنے والی خواتین صحافیوں سے بھی رابطہ قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

ہالی ووڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف 18 اداکاراؤں اور خواتین نے جنسی طورپر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ پانچ خواتین ایسی بھی تھیں جنہوں نے ’زیادتی‘ کے الزامات بھی عائد کیے تھے جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ (سوشل میڈیا) پر ’می ٹو‘ مہم باقاعدہ تحریک کی شکل اختیارکر گئی۔

’می ٹو‘ مہم کا آغاز 2006 میں ’تارانا برک‘ نے کیا تھا جو ’افریکن امریکن‘ سماجی کارکن تھی۔ اس کا مقصد خواتین کے خلاف جنسی زیادتی، انہیں ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے جیسے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

تارانا برک نے یہ ٹوئیٹ 13 سال کی بچی سے متاثر ہوکر کی تھی جو زیادتی کا نشانہ بنی تھی لیکن اس مہم کوعروج ’ایلسا ملانو‘ سے ملا جو ایک امریکی اداکارہ ہے۔ اس نے ’می ٹو‘ کو باقاعدہ ’ٹرینڈ‘ بنادیا۔

مؤقر امریکی میگزین ’ٹائمز میگزین‘ نے ’می ٹو‘ کے ٹرینڈ کو متعارف کرانے والے افراد کو دسمبر 2017 میں سال کے بااثر لوگوں میں شامل کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز