تھرپارکر میں غذائی قلت، رواں ماہ 14 بچے ہلاک

کراچی: سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھر پارکر کے علاقہ مٹھی میں غذائیت کی کمی اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مزید چار بچے جاں بحق ہوگئے جس کے بعد رواں برس میں ہلاک ہونے والے بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 490 ہو گئی ہے۔

ذرائع محکمہ صحت کے مطابق تھر کے شہر مٹھی میں رواں ماہ مرنے والے بچوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متوفی بچوں میں آٹھ روز کا حفیظ ولد دلدار، دو ماہ کی کویتا دختر تلوک، ڈیڑھ ماہ کا  آکاش ولد علی شیر اور گومندو کا نومولود دم توڑ گئے۔

حکومت سندھ نے ایک بار پھر سے تھرپارکر کی جانب سے آنکھیں موند لیں ہیں، غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث بچوں کی ہلاکتوں سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

تھر پار کر میں موجود سرکاری اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ادویات کی قلت موجود ہے اور جو دستیاب ہیں وہ اس نوعیت کی نہیں ہیں کہ جلد اثر دکھا پائیں۔

متوفی بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں ادویات نہیں ہیں اس لیے ڈاکٹرز انہیں باہر سے ادویات لینے اور ٹیسٹ کرانے کا کہتے ہیں اور انہیں قلت کے باعث بروقت علاج نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بچے مر جاتے ہیں۔

اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا، جس کی اب تک خاطر خواہ کارکردگی منظرعام پر نہیں آ سکی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز