الیکشن وقت سے پہلے ہوسکتےہیں، پاکستان مسلم لیگ(ن)

اکتوبر ۱۱, ۲۰۱۸
نئی حکومت نے ملکی استحکام کے لیے کچھ نہیں کیا، خرم دستگیر|humnews.pk

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کا طریقہ کار غلط تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ  پاکستان کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جو کررہی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہی حال رہا تو اپوزیشن مضبوط ہوگی۔

ہم نیوز کے پروگرام ’نیوز لائن‘ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف انتقام لیا جارہا ہے۔ ابھی تک حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ملک کو یا معیشت کو مستحکم کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہم اپنی آواز بلند کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ہم بینک بیلنس چھوڑ کرگئے تھے اور اب کیا حال ہے سب کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں پانچ ہفتے دیر کی جس کے باعث اربوں کا نقصان ہوا اور اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ ’نیوز لائن‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک جرم کے کیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو کچھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی میں بہت زیادہ انتشار پایا جاتا ہے کیونکہ کابینہ میں پی ٹی آئی کے لوگ شامل ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ  اسی لیے اب صورتحال اس قدر خراب ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لوگ پارٹی چھوڑنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ حکومت کو بجٹ پاس نہ کرنے دیں کیونکہ حکومت نے شہباز شریف کی گرفتاری کرکے انتقامی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں لیکن اتنی جلدی نہیں ہونے چاہئیں لیکن موجودہ حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔

قومی اسمبلی کے باہر موجود (ن) لیگ  کے دیگر رہنماؤں نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں (ن) لیگ کی پالیسی اور تھی لیکن یہاں ہمارے مقاصد کچھ  اور ہیں مگر یہ صرف ابتدا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے اور جی ٹی روڈ تک بھی احتجاج کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کا طریقہ کار الگ تھا۔ پیپلز پارٹی کو بھی احتجاج میں آنا چاہیئے اور (ن) لیگ نے ان سے درخواست بھی کی ہے کیونکہ شہباز شریف لیڈر آف دی اپوزیشن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بھی جلد ساتھ  دے گی۔

ن لیگی رہنماؤں نے میزبان ڈاکٹر ماریہ ذولفقار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالت کا ضمنی انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا کیونکہ اس وقت خوف وہراس کا ماحول ہے اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے جانبدار رویئے کو سب دیکھ رہے ہیں۔

لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح سے یک طرفہ اور جانبدارانہ فیصلے آتے رہے تو عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات مشکوک ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے۔

(ن) لیگی رہنماؤں نے کہا کہ احتساب کی بات تب کی جائے جب خود مثال بنا جائے لیکن یہاں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت نے صرف عوام سے جھوٹ بولا اور آج آئی ایم ایف کے پاس بھی جارہے ہیں۔ عوام کو صرف بے وقوف بنایا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی بتا رہی ہے کہ ان کا کوئی ہوم ورک نہیں تھا اورنہ کوئی تیاری تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا احتجاج مستقل ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز