فاروق ستار کا ایم کیو ایم میں انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی ارکان کو پانچ فروری کی پوزیشن پر بحال کرنےکا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس قدر جلد ممکن ہو پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کرایا جائے اور موجودہ افراتفری، بد نظمی اور بد انتظامی کی صورتحال سے بچنے کے لیے کارکنوں سے تازہ منڈیٹ لیا جائے، میں ہر بات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حادثاتی طور پر 23 اگست کو پارٹی کی سربراہی لے کر میں نے پارٹی کو بچایا اور اس بنا پر کارکن میری عزت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 11 فروری کو مجھ سے میرے ساتھیوں نے سربراہی لے لی، وہ بھی بغیر کسی منڈیٹ کے، جس قدر جلد ممکن ہو انٹرا پارٹی الیکشن کرایا جائے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ میں نے ہرائے جانے والے الیکشن لڑے مجھے علم تھا کہ یہ فاروق ستار کا الیکشن نہیں ہے، مجھے بہادرآباد والے ساتھیوں نے کہا کہ آپ کے بغیر الیکشن پھیکا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ ہمیں اس الیکشن سے گریز کرنا چاہیے، ٹھیک ہے بائیکاٹ نہ کریں اور مہاجروں سے کہیں ووٹ ڈالیں لیکن ساتھیوں نے کہا کہ لڑنا ہے تو فاروق بھائی نے سرتسلیم خم کیا۔

’فرد واحد نے ناقابل تلافی نقصان پنچایا‘

فاروق ستار نے کہا کہ ایک فرد واحد نے مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا میں مستقبل میں اس پر پردہ اٹھاؤں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے سے نو نومبر کی پریس کرنے کا بدلہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فرد واحد نے نقصان پہنچایا، میرا گناہ یہ تھا کہ میں نے پی ایس پی کے پروجیکٹ کو ناکام بنایا، میری کوششوں سے ایم کیو ایم کا سات لاکھ کا ووٹ بینک آج بھی قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو نومبر کی پریس کانفرنس کا نتیجہ لوگوں نے 15 اپریل کو دیکھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ میں نے 25 جولائی کے بعد کارکنوں کو دربدر دیکھا اور میں ان کے لیے یہاں آیا ہوں، میں کارکنوں کے پاس جاؤں گا، میں نے عزت کے لیے سیاست کی ہے، کسی ذاتی یا مالی مفاد کے لیے نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے مسلسل نظر انداز کیا گیا کسی فیصلے میں مشاورت نہیں کی گئی، کارکنوں اور مجھے نظر انداز کیا گیا۔

’کوتاہیوں اور نااہلی کی وجہ سے نشستیں ہاتھ سے گئیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اپنی نشستیں اپنی نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے ہاتھ سے گئیں، میں مشورہ دیا تھا کہ الیکشن کے بعد مشاورت سے خامیوں کا پتہ چلایا جائے لیکن اب تک ہم نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین کے ہے کارکنوں کو پارٹی میں تین افراد پر یقین نہیں ہے، میرا یقین بھی نہیں ہے، میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتا ان کی سوچ اور میری سوچ الگ ہے۔

’کوئی پروجیکٹ ناکام ہوگیا ہے تو مجھ سے بدلہ نہ لیں‘

فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں عوام کو حساب دینا ہوگا، پارٹی کے چند افراد کو حساب کتاب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں کارکنان جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے قبول ہوگا، کارکن اگر خالد بھائی کو منتخب کرتے ہیں تو میں ان کے ساتھ کارکن کی طرح کام کروں گا۔

فاروق ستار نے کہا کہ میں کسی کی محنت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا لیکن بالا ہی بالا فیصلے کرنے سے پارٹی کو نقصان ہوگا، یہ ایسے نہیں چل سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان سے بہت محبت کرتا ہوں اور اس  ملک کا انتظام چلانے والے بھی مجھے عزیز ہیں، اس لیے اگر ریاست کے ادارے پوچھیں گے کہ کس نے نقصان پہنچایا تو میں کھل کر بتاؤں گا لیکن میڈیا پر کچھ نہیں کہوں گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی پروجیکٹ ناکام ہوگیا تو اس کا بدلہ مجھ سے نہ لیا جائے۔

اس کے رد عمل میں وسیم اختر کا کہنا تھا کہ فاروق ستار اپنی پوزیشن کو بچانے کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب رابطہ کمیٹی کو مناسب لگے گا  تب ہی انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جائیں گے۔

دوسری جانب فیصل سبزواری کی فاروق ستار کو منانے کی کوششوں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 95 فیصد کارکنان کو پانچ فروری والی پوزیشن دے چکے ہیں اور دیگر معلامات بھی حل کرلیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز