’یو اے ای، چین سے معلومات شیئرنگ کے معاہدے کرینگے‘


اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ چین اور متحدہ عرب امارات سے مشترکہ تحقیقات اور معلومات کے تبادلہ کا معاہدہ کریں گے۔

اتوار کو افتخار درانی کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے ایف آئی اے کو تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ ایف آئی اے سے جے آئی ٹی تک پہنچ گیا ہے، کوئی منظم گروپ ہے جو کرپشن کے لیے ایسے اکاؤنٹس استعمال کرتا ہے۔

شہزاد اکبر کے مطابق فالودے والے اور رکشے والوں کے نام پر کمپنیاں ہیں ان سے اربوں روپے نکل رہے ہیں، ہم نظام کی بحالی چاہتے ہیں۔ کالادھن سفید کرنے کے لیے ملازمین کے نام پر کمپنیاں بنائی گئی ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ جس ملک سے بھی غیر قانونی رقم منتقلی کا سراغ ملا وہاں تک جائیں گے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ایل این جی سے متعلق تفتیش پر جلد ریفرنس فائل کیا جا سکتا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے 33 کمپنیوں کی تفصیل مانگی ہے، عرب امارات اور چین سے معلومات تک رسائی اورمشترکہ تحقیقات کے لیےمعاہدے کریں گے۔ برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی کے ہم منصب سے ملاقات کروں گا۔

بدعنوانی کے امور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقات کو دوبارہ شروع کر کے چیزیں مانگی جا رہی ہیں۔ سالانہ دس ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی جا رہی تھی، ہم گرے سے بلیک لسٹ کی جانب جا رہے تھے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

غلط یا مشکوک اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں پر پیمرا کو ایکشن لینا چاہیے۔ ہم آزادی اظہارے رائے کی حمایت کرتے ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے نام ای سی ایل میں نہیں ہیں۔

حکومتی ذمہ دار کا کہنا تھا کہ کرپشن کےخاتمے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے۔ ماضی کی حکومتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے ذاتی مفاد راستہ میں آتے تھے اس لیے اداروں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا تھا، نیب کی گزشتہ دس برسوں کی کارکردگی پر عدالت نے بھی سوال اٹھائے ہیں، قرضوں کا بوجھ ڈال کر ملکی معیشت کو تباہ کر دیا گیا۔

انسداد بدعنوانی اقدامات کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ،ایف آئی اے اور نیب پر مشتمل ٹیم وزیراعظم آفس میں بٹھائی گئی ہے۔

موجودہ صورتحال کے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان پر 30 ہزار ارب روپے کا قرض ہے، ورثہ میں معاشی مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملا، عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت معاشی صورتحال کیا ہے۔

شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ منی لانڈرنگ اور میگا پراجیکٹس میں بدعنوانی کا سامنا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی ناقص حکمت عملی سے معاشی مشکلات بڑھیں۔ پبلک سیکٹر کا خسارہ دس کھرب سے تجاوز کر گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز