نئے میڈیا قوانین جعلی خبروں کا خاتمہ کریں گے، فواد

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جگہ نئی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنا رہے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ختم کر کے نیا ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قوانین کا ابتدائی مسودہ تیار کر کے متعلق افراد و اداروں کو بھیجا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تجاویز دے سکیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت تمام اقسام کے میڈیا کی نگرانی کرے گی، نئے قوانین کے تحت کوئی بھی کسی کی ہتک نہیں کر سکے گا۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتی، جمہوری نظام میں میڈیا آزاد ہی ہوتا ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے متعلق ایک ٹیلی ویژن چینل پر جھوٹی خبر چلائی گئی تاہم پیمرا نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا آپ ایسی حرکت پر چینل کو 10 منٹ کے لئے بند کرسکتے ہیں؟ جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہم چینل بند کرنے کے مجاز نہیں، دس لاکھ روپیے جرمانہ کرسکتے ہیں۔

سیکرٹری انفارمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ مستقبل میں ٹیلی ویژن اشتہارات وزارت کی منظوری کے بعد نشر کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراطلاعات کی سربراہی میں ایک نگراں کمیٹی بنائی گئی ہے جو اشتہارات کے مواد کا جائزہ لے گی۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر رحمن ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی پیروڈی چلانا اور آصف زرداری کی کرادر کشی کی مذمت کرتے ہیں، ہمیں ٹی وی چینلز پر اینکرز چاہیں ججز نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاستدانوں کی ہتک کرنے والوں کے لئے بھی قانون سازی ہونا چاہے۔

معاملہ وضاحت کرتے ہوئے سینیٹر رحمن ملک کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے پیمرا کے ہاتھ قانون کی عدم موجودگی کے باعث بندھے ہیں، جب بے عزتی کی جاتی ہے تو وہ سب کی ہوتی ہے۔ قانون سازی کے لئے ایک ذیلی کمیٹی بنا دیں۔

قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے رکن سینیٹر سیف کا کہنا تھا کہ ذیلی کمیٹی نہ بنائیں، قائمہ کمیٹی ان لوگوں کو براہ راست طلب کرے اور ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔

کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ جو قواعد سے ہٹے اس کی جواب طلبی قائمہ کمیٹی میں کی جائے، مالکان کو بھی کمیٹی بلائے اور ان سے وضاحت لی جائے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پختونوں کی تذلیل کا اشتہار جس نے بھی بنایا، اس کی نشاندہی کی جائے، اسے سزا ملنا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزارت اطلاعات معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے جلد رپورٹ آ جائے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز