ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ


اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے بھی پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا۔

دورہ پاکستان سے متعلق اپنے ایک اعلامیے میں ایف اے ٹی ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اینٹی منی لانڈرنگ کی خامیاں دور کرے اور کاؤنٹر ٹیرارزم فنانسنگ کی روک تھام میں اصلاحات لائے جب کہ ایکشن پلان پر بھی تیزی سے عمل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق وہ پاکستان میں اینٹی منی لانڈرنگ کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے رپورٹ تیار کریں گے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انسداد منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام میں اصلاحات لائے گا اور کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ سے متعلقہ سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھے گا جب کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے مطابق مختلف سفارشات پر بھی مکمل عمل درآمد کرے گا۔

پاکستان نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ٹیرر فنانسنگ عناصر کی مکمل طور پر نشاندہی کرے گا جب کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ میں ملوث عناصر پر کڑی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔ پاکستان نے اہداف کے حصول کے لیے حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیاں یا دیگر اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ کے لیے مالی امداد فراہم کرنے والے اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

ایف اے ٹی ایف کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ایجینسیوں کے درمیان ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون ہو گا اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کو ٹیرر فنانسنگ ایکٹیویٹی کی مکمل تحقیقات کا بھی اختیار ہو گا جب کہ ٹیرر فنانسنگ میں ملوث عناصر پر کریمنل کیسز کے ذریعے سزائیں بھی عائد کی جائیں گی۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پیش کی گئیں سفارشات میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹیرر فنانسنگ میں ملوث عناصر کے تمام اثاثہ جات مکمل ضبط کر لیے جائیں گے۔

جون 2018 میں پاکستانی حکام کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ اہم مذاکرات ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں