بلاگ: عدالت ایک، نظارے دو

پولیس کی الٹی چال، ملزموں کو پروٹوکول، میڈیا ورکرز پر تشدد

عوامی مسائل کو سامنے نہ رکھا تو عوام معاف نہیں کریں گے، حمزہ شہباز

فائل فوٹو


آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور رمضان شوگرملز میں جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز عدالت پہنچے تو نظارہ ہی منفرد تھا۔ جہاں اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا جاتا رہا، اسی عدالت کی راہداریوں میں حمزہ شہباز برآمد ہوئے تو پولیس کا ایک افسر ڈی ایس پی ذوالفقار بٹ ہٹو بچو کے نعرے لگاتا ان کے لیے راستہ صاف کرتا آگے بڑھ رہا تھا۔

عظمت رفتہ کے زعم میں مبتلا حمزہ شہباز بھی ٹہلتے ٹہلتے یوں عدالتی کمرے کی جانب گامزن تھے جیسے صبح کی سیر پر نکلے ہوں۔ سیڑھیاں چڑھ کر راہداری میں آئے تو ایس پی سٹی ڈویژن غضنفر شاہ پیچھے سے وارد ہوئے۔ انکی کوشش تھی کہ وہ چھوٹے میاں صاحب سے آگے نکل کر انہیں اپنا چہرہ دکھاتے لیکن وہ بھی جانے انجانے ان کے شاہی سفر میں رخنہ ڈال بیٹھے۔ ذرا سے دھکے پر حمزہ شہباز نے تیوریاں چڑھائیں اور ٹھیک اسی انداز میں انگلی لہرائی جو کسی پارٹی متوالے اور جیالے کو ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

عدالت کی راہداری کا یہ نظارہ بھی قابل دید تھا جہاں ایک ملزم اپنی ہی پیشی کے موقع پر ایک ایس پی کو انگلی لہرا کر دور ہٹنے کی تنبیہہ کر رہا تھا ۔۔۔ اور ایس پی بھی وہ جو ملزم کی عدالت میں بحفاظت پیشی کا ذمہ دار تھا۔ اس سے بھی زیادہ منفرد ردعمل اس پولیس افسر کا تھا جسے اصولی طور پر ملزم کی لہراتی انگلی پکڑ کر فورا نیچے کرنی چاہیے تھی لیکن حقیقت کی دنیا میں ایک اور ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ایس پی صاحب کسی ملزم کی طرح کھسیانا ہو کر ہنسے اور التجائیہ نگاہوں سے چھوٹے میاں کو درگزر کر کے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتے رہے۔

پولیس کی خود کو سیاستدانوں کے ماتحت سمجھنے کی یہ روش نئی نہیں ہے۔ سیاسی بھرتیاں اور تعیناتیاں، پاس وفا اور عہد وفاداری یقینا اس گلے سٹے نظام کی انہونے نظاروں کی ذمہ دار ہے۔ سرکار کے نوکر ایس پی نے سوچا ہو گا کہ ملزم کی اٹھی انگلی اگر آج نیچے کی تو عین ممکن ہے کل کو یہی ملزم اسکے ہاتھ کاٹ دے یا اسکے کیرئیراور بچوں کی روزی روٹی کو مشکل بنا دے۔

یہ داستاں تو وہ ہے جو عدالت کی راہداری میں گزری وگرنہ ہماری پولیس ایسی بھی کمزور نہیں ہے۔ اندر ایک افسر نے ماتحت ہونے کا مظاہرہ کیا تو اس سے چند لمحے قبل اسی عدالت کے باہر احاطے میں چشم فلک نے پولیس اہلکاروں کی جرات اور بہادری کے افسانے دیکھے۔ بدعنوانی کے الزام میں پیشی پر لائے گئے ملزم حمزہ شہباز کی گاڑی عدالت پہنچی تو رزق حلال کی تگ و دو میں مصروف صباء نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر ندیم اپنا کیمرہ لیے آگے بڑھا۔۔ ابھی وہ اس منظر کو کیمرے میں قید کرنے والا ہی تھا کہ اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے چہرے پر پڑا۔ اس اچانک حملے اور توہین کے زیراثر اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے پولیس کی سبزی مائل وردی پر اس کی نظر پڑی اور وہ خاموشی سے اپنی عزت نفس پر اس اچانک وار کو سہہ گیا۔

احتساب عدالت میں پیشیاں روزانہ کا قصہ ہے، آئے روز صحافی بدعنوانی کے الزامات میں پشیاں بھگتنے والے رہنماؤں اور انکے محافظوں کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ نہ پروٹوکول کا خیال کرتے ہیں، نہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی مجبوریاں سمجھتے ہیں۔

جیو نیوز کے رپورٹر عثمان بھٹی بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو سیاسی پروٹوکول اور افسران شاہی کی تسلیمات کو خاطر میں نہ لائے اور حمزہ شہباز کی کوریج کیلئے انکے قریب جا پہنچے۔ پولیس کو یہ کب منظور تھا، فورا عثمان بھٹی کو دبوچا اور زوردار دھکا دیکر پیچھے دھکیل دیا۔ اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو روائتی انداز میں جہاں دل کیا، مکے، تھپر اور لاتیں رسید کر کے اسے ادھ موا کر دیا اور خوب سبق دیا کہ بدعنوان سیاسی رہنما کی پیشی ہی کیوں نہ ہو، آداب بجا لانے میں غفلت کسی نے نہیں کرنی۔

سڑکوں پر ماورائے عدالت قتل ہوں، قیدیوں کی تھانوں میں پراسرار اموات ہوں، نجی عقوبت خانوں میں تفتیش کے نام پر بہیمانہ تشدد ہو یا داد رسی کے لیے آئے سائلین کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ، پولیس میں اصلاحات کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ابھی کوسوں دور محسوس ہوتا ہے اور اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود پولیس افسران و اہلکار ہیں۔ معاملات رویوں کی خرابی کے ہوں گے تو سٹیٹ آف دی آرٹ انتظامی اصلاحات بھی کسی کام نہ آئیں گی۔

فی الحال صحافیوں کو ایسے ہر واقعے کے بعد پولیس کے سربراہ کی مذمت، انتباہی نوٹسز اور انکوائری رپورٹ پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ ڈر لگتا ہے کہ سوالات زیادہ پوچھیں تو کہیں کارسرکار میں مداخلت کی دفعہ 155 لگا کر کسی مقدمے میں تھانے پیش ہونے کا نوٹس نہ مل جائے۔

احتساب عدالت میں پیشیاں چلتی رہیں گی، ریمانڈ ملتے رہیں گے، میڈیا کوریج بھی کرتا رہے گا، مار بھی کھائے گا، اور دوسروں کو تصویر کے حقیقی رخ سے آگاہ بھی کرتا رہے گا۔

نوٹ: یہ بلاگ کے مصنف کی ذاتی رائے ہے، ہم نیوز کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں