بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل

بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل

فائل فوٹو

پشاور: ہائی کورٹ کے حکم پر شروع ہونے والی بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آر ٹی) منصوبے کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق منصوبے کے چند تکنیکی معاملات واضح کرنے کے بعد تحقیقاتی رپورٹ 24 جنوری تک ہائی کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں ہائی کورٹ کی جانب سے منصوبے پر اٹھائے گئے سوالات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی ارٹی کے تکنیکی معاملات کے لیے این ایچ اے اور دیگر اداروں کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی منصوبے کی انکوائری 45 دن میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا اور خیبر پختونخوا حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

ہائی کورٹ نے ایف اے کو چند سوالات کے جواب تلا ش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سوال کیا ہے کہ  بی آر ٹی کے چیف ایگزکٹیو کو عہدہ سے کیوں ہٹایا گیا؟ کیا منصوبے کے لیے اتنا بڑھا قرضہ لینے کی ضرورت تھی؟

عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا بی آر ٹی کے قرضہ سے صوبے کی معاشی خوشحالی بھی ممکن تھی۔ مقبول کالسنز کمپنی پنجاب میں بلیک لسٹ تھی تو اسے بی آر ٹی کا ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟

عدالت نے کہا ہے کہ لاہور میں میٹرو بس کی تعداد 65 ہیں، پشاور کے لیے 219 بسیں استعمال کی جانی ہیں۔ 155 بسیں فیڈر روٹس پر چلیں گی جن کو نجی ٹرانسپورٹرز چلائیں گے۔ عدالت نے سوال کیا ہے کہ عوام کے پیسوں پر چلنے والی بسیں نجی ٹرانسپورٹرز کو کیوں دی جا رہی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ سابق سیکرٹری پی اینڈ ڈی اور موجودہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک ، ڈی جی پی ڈی اے سلیم وٹو، اعظم خان اور ڈی جی پی ڈی اے اسرارالحق، اور وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد کے درمیان کیا تعلق تھا؟ اپنا حصہ لینے کے لیے ان کا کس طرح تعلق بنا؟

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ پی ڈی اے کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز