کے الیکٹرک کا 77 فیصد علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ


کراچی: کے الیکٹرک نے 77 فیصد رہائشی علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

ترجمان کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کراچی میں بجلی کی طلب 2 ہزار 800 میگا واٹ اور رسد 2 ہزار 500 میگا واٹ ہے جس کے بعد کراچی میں بجلی کا شارٹ فال 300 میگا واٹ رہ گیا ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کے 77 فیصد رہائشی علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے تاہم لائن لاسز والے علاقوں میں 6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی تحقیقاتی کمیٹی نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار کے الیکٹرک کو قراردیا تھا۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر رپورٹ جمع کرائی تھی، جس کی سفارشات کی روشنی میں کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

نیپرا کی تحقیقاتی کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق بجلی بحران کی وجہ ایندھن کی کمی قرار دینا غلط ہے۔  کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار کیلئے سرمایہ کاری نہیں کی۔ کےالیکٹرک نےسوئی سدرن سےمعاملات طےنہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیں جہاں بجلی کی چوری وہاں لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کے الیکٹرک کی جانب سے کی جانے والی زائد بلنگ کے آڈٹ  کا مطالبہ کیا تھا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے چیئرمین نیپرا کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ عام آدمی کے لیے کے الیکٹرک کا بل ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پرشہری کے الیٹرک سے متعلق مختلف امور پر شکایت کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں