لندن پلان کی وجہ سے ہی ڈیل یا ڈھیل دی جا رہی ہے، سینئر تجزیہ کار

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے موجودہ حکومت جہاں کھڑی تھی آج بھی وہیں کھڑی ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے بہتر حکومت مشکل فیصلے خود کرے، ڈاکٹر شمشاد اختر

سابق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے حکومت کو ہر ادارے کے لیے معاشی اصلاحات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

نیب کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب

پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے کہا کہ شہباز شریف کی نااہلی کی وجہ سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تبدیل ہو سکتے ہیں اور لگتا ہے بلاول بھٹو ان کی جگہ لیں گے۔

حکومت ٹیکس بڑھانے کے لیے بڑی مچھلیوں کو پکڑے، سراج قاسم تیلی

سابق گورنر سند محمد زبیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے مہنگائی مزید بڑھے گی اور معاشی تباہی آئے گی۔

حکومت اپنے اتحادیوں سے مشاورت کرے تو زیادہ فائدہ ہو گا، کامل علی آغا

ایم کیو ایم رہنما امین الحق نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات درست سمت جا رہے تھے تاہم کمیٹی تبدیل کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔

پاکستان بھارت کو ہر طرح کا جواب دینے کو تیار ہے، اشرف جہانگیر قاضی

سابق سفیر نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی واضح نہیں ہے۔

2020 معاشی بہتری کا سال نہیں ہو گا، ماہر معاشیات

عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ہمیں امید ہے اسٹیٹ بینک کی آئندہ کی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کا ریٹ کم ہو گا جو ڈھائی سے تین فیصد کم ہو سکتا ہے۔

ایم کیو ایم سندھ حکومت میں ساتھ چلنا چاہے تو ہم تیار ہیں، سعید غنی

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ عمران خان تبدیلی لانے کے لیے یکسو ہیں اور انہوں نے اب تک جو بھی کرنے کی ٹھانی ہے وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کو پی ٹی آئی کے ساتھ رہ کر بھی کچھ نہیں مل رہا، سینئر تجزیہ کار

نذیر لغاری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر حکومت سے الگ ہو جاتی ہے تو یہ اپنی عزت و آبرو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے ورنہ ان کا برا حال ہو گا۔

مطالبات تسلیم ہونے تک حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے، ایم کیو ایم

عامر خان نے کہا کہ ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں جس طرف توجہ نہ تو سندھ حکومت کی ہے اور نہ ہی وفاق کی۔

ٹاپ اسٹوریز