پرائیویسی کی خلاف ورزی پر فیس بک کو 650 ملین ڈالرز جرمانہ

پرائیویسی کی خلاف ورزی پر فیس بک کو 650 ملین ڈالرز جرمانہ

فوٹو: فائل

امریکی ریاست الینوائے میں پرائیویسی کی خلاف ورزی پر فیس بک 650 ملین ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرے گی۔

شکاگو کے اٹارنی نے 2015 میں فیس بک پر مقدمہ چلایا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ فیس بک نے 2008 کے الینوائے پرائیویسی کے قانون کی خلاف ورزی کی۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک سال کے آخر میں اسمارٹ گلاسز لانچ کر دے گا

فیس بک پر لگائے گئے الزام کے مطابق ادارے نے پرائیویسی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چہروں کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کیا تھا۔

جرم ثابت ہونے پر عدالت نے فیس بک کو 650 ملین ڈالرز جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ فیس بک نے رواں سال کے آخر میں اسمارٹ گلاسز لانچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیشل ریکگنیشن سے لیس اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر آپ سامنے والے شخص کو پہچان سکیں گے اور اس کی دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ گلاسز میں بیلٹ ان کیمرہ بھی ہو سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انہیں تنگ کرسکیں تاہم کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹریلیا نے فیس بک اور گوگل کو کمائی میں سے حصہ دینے کا پابند کردیا

واضح رہے کہ فیس بک 2017 سے رے بین کے ساتھ اس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ گوگل نے بھی اپنے اسمارٹ گلاسز کے لیے اسی کمپنی سے اشتراک کیا تھا تاکہ فیشن کے لحاظ سے اچھے فریم تیار ہوسکیں گے مگر ناکامی کا سامنا ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز