امریکا نےبگرام ایئربیس کیسے چھوڑا؟ پینٹاگون کا مؤقف

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ بگرام ایئربیس چھوڑنے کا فیصلہ خلا میں نہیں ہوا،  افغانستان کے سینئر عہدیداروں کوروانگی سے 48 گھنٹے قبل بتایا دیا تھا۔

انہوں نے کہا ہم نے بتادیا تھا کہ امریکی افواج بگرام فوجی ہوائی اڈا  سے جا رہی ہیں لیکن حتمی وقت سیکیورٹی وجوہات کے باعث خفیہ رکھا گیا۔

پینٹاگون کے پریس سکریٹری جان کربی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے افغان شراکت داروں پر بھروسہ کرتے ہیں یا نہیں ، ہمارے بگرام ائربیس سے واپسی کا وقت خفیہ رکھنے کی وجہ طالبان تھے اور یہ وقت بتانا بیوقوفی ہوتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نےبگرام ائربیس چھوڑنے کا فیصلہ خلا میں نہیں کیا ۔ ہم اتنا بتا سکتے ہیں کہ ہم نے افغان ایئر بیس سے واپسی کے متعلق افغانستان کی سیاسی اور فوجی قیادت مکمل آگاہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج رات کی تاریکی میں بگرام ایئربیس سے نکلی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا عمل 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بگرام اڈے سے انخلا پر افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی رہی۔ بگرام آخری فضائی اڈا ہے جس کو افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا گیا۔

خیال رہے کہ امریکی عہدیداروں نے گزشتہ جمعے کو اعلان کیا کہ وہ بگرام ایئربیس مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں۔

افغان عسکری حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نےمطلع کیے بغیر رات کی تاریکی میں خاموشی سے بگرام ایئربیس چھوڑا۔

امریکی اڈے سے نکلے اور کابل ائیر پورٹ پر پہنچ کر افغان فوج کو اطلاع دی کہ ہم نے ایئربیس چھوڑ دیا ہے۔امریکی فوج نے ایئربیس چھوڑ نے سے قبل بجلی منقطع کر دی تھی۔

 

متعلقہ خبریں