افغانستان کے اثاثے کتنے اور کہاں ہیں؟

طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکا نے افغان مرکزی بینک دا افغان بینک(ڈی اے بی) کے امریکہ میں 9.5 بلین ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

دی افغان بینک کے گورنر اجمل احمدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر افغانستان کے کل اثاثوں کی مکمل تفصیلات بتائی ہیں۔ انہوں نے لکھا مجھے بتایا گیا ہے کہ طالبان ڈی اے بی کے عملے سے اثاثوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔

گورنر نے کہا یہ واضح ہے کہ طالبان کو فوری طور پر اپنی ٹیم میں ایک ماہر معاشیات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

اجمل احمدی نے لکھا کہ ڈی اے بی کے کل ذخائر پچھلے ہفتے تک تقریبا9.09 بلین ڈالر تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیسے کرنسی کی شکل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے 9.5 بلین ڈالر منجمد کر دیے

بین الاقوامی معیار کے مطابق زیادہ تر اثاثے لیکویڈ ایسٹس( جس کو با آسانی فروخت کرکے پیسے لیے جا سکیں) جیسے سونا یا پرائز بانڈز کی صورت میں رکھے گئے ہیں۔

دی اے بی کا سب سے زیادہ پیسہ امریکا کے مرکزی بینک(فیڈ) میں ہے جہاں7.0 ارب ڈالر پڑے ہیں۔ امریکی بانڈز کی صورت میں3.1، ورلڈ بینک کے ریزرو ایڈوائزری اور مینجمنٹ پارٹنرشپ(ریمپ) میں2.4، سونا1.2 اور  کیش میں0.3 بلین ڈالرز ہیں۔

بین الاقوامی اکاؤنٹس میں1.3 بلین جبکہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ میں0.7 بلین ڈالرز ہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ آئی ایم ایف نے حال ہی میں 650 بلین کی منظوری دی تھی۔ ڈی اے بی کو 23 اگست کو تقریبا 340 ملین ڈالر ملنے تھے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال ہے پیش نظر وہ رقم منتقل ہوگی یا نہیں اس کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

زیادہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث ڈی اے بی ہر چند ہفتوں بعد نقدی کی صورت میں امریکا سے ڈالر کی کھیپ آتی تھی۔

ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے کے سبب پیسے منتقل نہیں ہو سکے جس کی وجہ ہے اب کیش کی صورت میں پیسے ختم ہونے کے قریب ہیں۔

اجمل احمدی نے لکھا جمعہ کی صبح مجھے ایک کال موصول ہوئی جس میں مجھے مطلع کیا گیا کہ مزید امریکی ڈالر کی ترسیل نہیں ہوگی (ہمیں امید تھی کہ پیسے اتوار پہنچ جائیں گے، اور اس دن کابل پر قبضہ ہوگیا)۔

ہفتے کے روز بینکوں نے معمول سے زیادہ امریکی ڈالرز کا مطالبہ کیا۔ کیوں کہ عوام بینکوں سے اپنا پیسہ نکال رہے تھے۔

انہوں نے لکھا ’پہلی بار میں نے ڈی اے بی کے پاس پڑے ڈالرز کو بچانے کے لیے بینکوں اور ڈالر کی خریدوفروخت کی ایک حد مقرر کر دی۔ فی کسٹمر کیلئے رقم نکالنے کی ایک حد مقرر کر دی۔

گورنر نے لکھا کہ ہفتے کے روز دوپہر کے وقت، میں نے صدر غنی سے یہ بتانے کیلئے ملاقات کی کہ اتوار کو متوقع ڈالر کی کھیپ نہیں آئے گی۔

ہفتے کی شام صدر غنی نے سیکرٹری بلنکن سے بات کی تاکہ ڈالر کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی جائے۔ کیونکہ اصولی طور پر اس کی منظوری دی گئی تھی۔

بہرحال امریکی ڈالرز کی کھیپ کابل نہیں پہنچی، ایسا لگتا ہے کہ ہمارے شراکت داروں کے پاس اطلاعات موجود تھیں کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

انہوں نے لکھا طالبان پر چونکہ بین الاقوامی پابندیاں ہیں تو توقع ہے کہ  اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور طالبان کو نہیں میلں گے۔

لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ طالبان کو افغانستان کے کل بین الاقوامی ذخائر کا 0.1-0.2 فیصد ہی مل سکتا ہے۔

ڈی اے بی کے گورنر نے لکھا کہ اثاثے منجمد ہو چکے ہیں۔ طالبان کو کرنسی پر کنٹرول کرنا ہوگا تاکہ ڈالر کم خرچ ہوں۔ افغانی کرنسی کی قدر میں کمی آئے گی۔

کرنسی کی قدر گرنے سے مہنگائی بڑھے گی۔ مہنگائی بڑھنے سے غریبوں کو نقصان پہنچے گا کیونکہ خوراک کی قیمتیں بڑھ جائیں گے۔

 

متعلقہ خبریں