14 سال سے کم عمر بچوں پر سگریٹ خریدنے پر پابندی

تمباکو نوشی جہاں انسان کے لیے انفرادی طور پر خطرناک ہے وہیں اس کے مضر اثرات فضائی آلودگی کا سبب بھی بنتے ہیں.

نیوزی لینڈ میں ایک رولنگ پروگرام میں نوجوانوں کو سگریٹ خریدنے کی اجازت دینے پر پابندی لگائی جا رہی ہے، جس کا مقصد 2025 تک پورے ملک کو سگریٹ نوشی سے پاک بنانا ہے۔

نئے قوانین کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنی زندگی میں کبھی بھی کہیں سے بھی سگریٹ خریدنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈن کے منصوبے پر عمل کرانے کے لیے اور ملک کو مکمل پاک کرنے کے لیے ہر سال اس عمر کی حد میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ناخوشگوار رشتے تمباکو نوشی سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، تحقیق

حکومت سگریٹ بیچنے کی اجازت دی گئی دکانوں کی تعداد کو بھی محدود کر رہی ہے۔ ملک بھر میں صرف 500 دکانوں کو لائسنس دیا جا ئے گا۔حکومت کی جانب سے سگریٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، لیکن اس سے کوئی خاص کمی نہیں آئی، جس کے بعد سخت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

معاون وزیر صحت عائشہ ورل کا کہنا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ نوجوان کبھی بھی تمباکو نوشی شروع نہ کریں اس لیے ہم نوجوانوں کے نئے گروہوں کو تمباکو نوشی کی مصنوعات بیچنا یا سپلائی کرنا جرم بنا دیں گے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر آسٹریلوی بھی دکانوں میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی چاہتے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں